تہران (17 اکتوبر 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے 7 روزہ منصوبے کا خاکہ پیش کر دیا، اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے۔اسلامی تعاون تنظیم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ او آئی سی کا قیام امت مسلمہ کی مشترکہ آواز بننے کیلیے عمل میں لایا گیا، ہمارے درمیان بات چیت کے راستے کھلے رکھنا کمزوری کی علامت نہیں بلکہ امت مسلمہ کی ایک ذمہ داری ہے۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے عوام، خود مختاری اور جائز مفادات کا دفاع کرے گا، اپنے حقوق کے دفاع اور امن کی کوششوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں، ہم جنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بخوبی واقف ہیں، ماضی کی غلطیوں اور مظالم کو دہرا کر سلامتی بحال نہیں کی جا سکتی، صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے کر سمندری نقل و حمل کی سلامتی ممکن نہیں۔یہ بھی پڑھیں: یمن بحران: ایران کی ثالثی پیشکش پر سعودی عرب کا جواب تاحال نہیں آیا، تہران’دوسرے ملک پر بمباری اور ناکہ بندی مسلط کر کے سلامتی کی توقع فضول ہے۔ ہم نے قطر کے ذریعے ایک سات روزہ مخصوص منصوبہ امریکا تک پہنچایا ہے۔ ضروری شرائط پوری کر دی جائیں تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ شرائط پوری ہونے پر 7 دنوں میں سمندری آمد و رفت معمول پر لائی جا سکتی ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجی جارحیت نے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالی، یکطرفہ اقدامات سے طے شدہ تنازعات کے حل کا طریقہ کار نظر انداز کیا گیا، یا تو ہم مل کر علاقائی سلامتی قائم کریں یا مل کر عدم تحفظ کا سامنا کریں، کسی ملک کی سرزمین یا فضائی حدود پڑوسی ملک کے خلاف لانچ پیڈ نہیں بننی چاہیے، خطے کے ہر ملک کا بنیادی ڈھانچہ صرف علاقائی سلامتی کیلیے استعمال ہونا چاہیے، ایران کسی قسم کے جبر، دھمکیوں یا ڈرانے دھمکانے کے رویے کو قبول نہیں کرتا، ایران دباؤ میں آ کر اپنے خود مختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔