’اس کے پیچھے کافی گڑبڑ جھالا ہے‘، مردم شماری سے متعلق مودی حکومت کے نئے فیصلہ پر کانگریس کی تنقید

Wait 5 sec.

’مردم شماری 2027‘ سے متعلق مودی حکومت کے ایک تازہ فیصلہ نے کانگریس کو ناراض کر دیا ہے۔ وہ فیصلہ ہے مردم شماری کے لیے شمار کنندگان کی تقرری کا دائرہ بڑھانا۔ کانگریس کو اس فیصلہ کے پیچھے ’مودی-شاہ کی سازش‘ دکھائی دے رہی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت نے اب مردم شماری 2027 کے لیے شمار کنندگان کی شکل میں تقرری کیے جا سکنے والے لوگوں کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ اس کے پیچھے کافی گڑبڑجھالا ہے۔‘‘मोदी सरकार ने अब जनगणना 2027 के लिए गणनाकर्मियों के रूप में नियुक्त किए जा सकने वाले लोगों का दायरा बढ़ा दिया है। इसके पीछे काफी गड़बड़झाला है।10 से 12 जुलाई 2026 के दौरान RSS ने बेलगाम में अपने कार्यकर्ताओं के लिए एक बड़ा प्रशिक्षण शिविर आयोजित किया था, जिसका एकमात्र एजेंडा… pic.twitter.com/WRRxKYyXig— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 17, 2026جئے رام رمیش کا یہ تبصرہ 16 اکتوبر 2026 کو مردم شماری سے متعلق جاری نوٹیفکیشن کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’10 سے 12 جولائی 2026 کے دوران آر ایس ایس نے بیلگام میں اپنے کارکنان کے لیے ایک بڑا تربیتی کیمپ منعقد کیا تھا، جس کا واحد ایجنڈا مردم شماری 2027 تھا۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعہ 26 مئی 2026 کو تشکیل ڈیموگرافک تبدیلیوں پر اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اب ملک کی ڈیموگرافی میں ہو رہی تبدیلیوں کو لے کر عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی اور غیر ملکی تنظیموں سے بھی مشورے طلب کیے ہیں۔ اس کمیٹی میں اعلیٰ سطحی صرف ایک ہی بات ہے، اور وہ ہے اس کے اراکین کا آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں اور لوگوں سے تعلق۔ اس لیے ہم جانتے ہیں کہ یہ مشورے کہاں سے آئیں گے۔‘‘جئے رام رمیش کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ 16 اکتوبر 2026 کو جاری مردم شماری کے نوٹیفکیشن کو 10 سے 12 جولائی 2026 کے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپ اور 14 اکتوبر 2026 کو ڈیموگرافی میں تبدیلیوں پر بنی کمیٹی کے ذریعہ مشورہ طلب کرنے کے ضمن میں دیکھا جانا چاہیے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق ’’یہ صاف ہے کہ یہ ہزاروں آر ایس ایس/بی جے پی کارکنان کے لیے ایک روزگار گارنٹی منصوبہ ہے۔ اس سے قبل ہی بگاڑا جا چکا مردم شماری کا عمل اب مزید آلودہ ہوگا۔ مزید ایک ادارہ کو برباد کیا جا رہا ہے۔‘‘ وہ جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ایس آئی آر کی طرح مردم شماری کے اعداد و شمار میں بھی خطرناک طریقے سے ہیرا پھیری کی جائے گی۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ (مودی-شاہ) کی جوڑی کے سازشی منصوبوں کی کوئی حد نہیں ہے۔‘‘