ایران کی ایک بار پھر سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان ثالثی کی پیشکش

Wait 5 sec.

(17 اکتوبر 2026): ایران نے ایک بار پھر سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بغداد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک اور مصری ہم منصب سے ملاقات کی، وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات اسلامی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر عباس عراقچی نے کہا کہ سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے تنازع کے حل کیلیے مدد کو تیار ہیں، یمن کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، مسئلہ فلسطین کے حل فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔اس سے قبل، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مسائل کے پُرامن حل میں مدد کیلیے تیار ہے، ایران تنازعات کے خاتمے کیلیے اپنا کردار ادا کرنے کو ہمیشہ تیار رہا ہے۔یہ بھی پڑھیں: یمن بحران: ایران کی ثالثی پیشکش پر سعودی عرب کا جواب تاحال نہیں آیا، تہراناسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ بارہ سال کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ بیرونی مداخلت اور عسکری حکمت عملی یمن کے بحران کا حل نہیں، یمن کے عوام ایک دہائی سے زائد عرصے سے بحری اور فضائی ناکہ بندی کا سامنا کر رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ سمیت بیرونی قوتوں کی مداخلت نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، یمنی افواج اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔انہوں نے خطے کے ممالک اور عالم اسلام پر زور دیا کہ یمن کی صورتحال بہتر بنانے کیلیے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات کریں۔