کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد اندازوں سے بھی تجاوز کرگئی

Wait 5 sec.

ایڈمنٹن: خالصتان ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد اندازوں سے بڑھ گئی ، ریفرنڈم میں 23 ہزار سے زائد ووٹ ڈالے گئے۔تفصیلات کے مطابق کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم میں سکھ برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جہاں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد منتظمین کے ابتدائی اندازوں سے بھی تجاوز کر گئی۔ذرائع نے بتایا کہ اس ریفرنڈم میں 23 ہزار سے زائد افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جبکہ ووٹنگ کے تمام عمل کا شفاف طریقے سے جائزہ لینے کے لیے عالمی مبصرین بھی موقع پر موجود تھے۔ریفرنڈم کے دوران شرکاء میں شدید جوش و خروش دیکھا گیا۔ مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جبکہ اس موقع پر بھارتی ترنگا پھاڑے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔سکھز فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے شرکاء سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے متحد رہنے اور بھارتی پنجاب کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔ان کا کہنا تھا کہ "بھارت گولیاں چلاتے چلاتے تھک جائے گا، لیکن سکھ قوم شہادت دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی گھبرائے گی ، ہردیپ سنگھ نجر اور دیگر شہید سکھ رہنماؤں کے قتل کا جواب گولی کے بجائے ووٹ کے ذریعے دیا جائے گا۔یکم نومبر سے خالصتان ریفرنڈم کے لیے 20 لاکھ نئے ووٹرز کے اندراج کی ملک گیر مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔منتظمین کے مطابق ایڈمنٹن میں کامرانی سے ہمکنار ہونے کے بعد خالصتان ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ مارچ 2027 میں آسٹریلیا میں منعقد ہوگا، جہاں سکھ برادری کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔