اتراکھنڈ کانگریس کی انچارج کماری شیلجا نے دہرادون میں آج ایک اہم پریس کانفرنس کر کے مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی دھامی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے، ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، بدعنوانی، بے روزگاری، پیپر لیک اور نقل مکانی جیسے مسائل پر حکومت کو گھیرا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس کی آئندہ تحریک اور احتجاجی مظاہروں کے پروگراموں کی تفصیلات بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس 22 اکتوبر سے ’نیائے یاترا‘ نکالے گی، جس میں انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔अंकिता भंडारी हत्याकांड केवल एक बेटी को न्याय दिलाने का मामला नहीं, बल्कि उत्तराखंड की अस्मिता, महिलाओं की सुरक्षा और सत्ता की जवाबदेही का सवाल है। जब तक न्याय नहीं मिलता, हमारी लड़ाई जारी रहेगी - माननीय प्रदेश प्रभारी @Kumari_Selja जी pic.twitter.com/zyiimIXdzK— Uttarakhand Congress (@INCUttarakhand) October 17, 2026کماری شیلجا نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں برسراقتدار طبقہ کے لیڈران کے نام سامنے آئے اور ایک آڈیو بھی وائرل ہوئی، لیکن متعلقہ لیڈران سے پوچھ تاچھ اور تحقیقات کے حوالے سے اب بھی سوالات برقرار ہیں۔ انہوں نے دُشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے پر بھی سخت اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اتراکھنڈ کی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گورنر بننے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انکیتا کو انصاف دلانے کے لیے کانگریس کی تحریک جاری رہے گی۔ کانگریس نے آج شام دہرادون میں کینڈل مارچ نکالنے کا اعلان بھی کیا۔हरिद्वार में जिला महानगर कांग्रेस कमेटी के साथियों ने सुखी नदी से भीमगोड़ा तक कैंडल मार्च निकालकर अंकिता के लिए न्याय की आवाज़ बुलंद की।काँग्रेस की मांग साफ है—अंकिता के परिवार द्वारा उठाए गए हर सवाल की निष्पक्ष और पारदर्शी जांच हो, तथाकथित VIP की भूमिका से जुड़े सवालों का सच… pic.twitter.com/hX8sig782Q— Uttarakhand Congress (@INCUttarakhand) October 17, 2026اس درمیان اتراکھنڈ کانگریس انچارج نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کا طریقۂ کار جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو جمہوری طریقے سے اپنی بات رکھنے کا حق ملنا چاہیے۔प्रदेश के युवा रोजगार की तलाश में भटक रहे हैं। भर्ती परीक्षाओं में अनियमितताओं और पेपर लीक ने युवाओं के भविष्य को प्रभावित किया है। सरकार को पारदर्शी भर्ती प्रक्रिया और रोजगार के अवसरों पर जवाब देना होगा - माननीय प्रदेश प्रभारी @Kumari_Selja जी pic.twitter.com/WLyHpAMlOq— Uttarakhand Congress (@INCUttarakhand) October 17, 2026کابینہ وزیر ریکھا آریہ سے متعلق معاملے پر کماری شیلجا نے کہا کہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے وزیر کے شوہر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے مڈ ڈے میل، قومی کھیلوں اور راشن سے متعلق مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی ریاستی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی غیر جانب داری پر بھی سوال اٹھائے۔کماری شیلجا نے ریاست میں زمینوں کی خرید و فروخت، غیر قانونی کانکنی، بے روزگاری، پیپر لیکس اور نقل مکانی کے معاملات پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بدری ناتھ میں چندہ چوری کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات سے وابستہ رقم کا حساب عوام کو ملنا چاہیے۔ کانگریس کی حکومت بننے پر ان تمام معاملات کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔22 से 25 अक्टूबर तक प्रदेशभर में न्याय यात्रा निकाली जाएगी और 27 अक्टूबर को गैरसैंण विधानसभा का घेराव किया जाएगा। अंकिता को न्याय दिलाने और उत्तराखंड के ज्वलंत मुद्दों को लेकर कांग्रेस सड़क से सदन तक आवाज उठाएगी - माननीय प्रदेश प्रभारी @Kumari_Selja जी pic.twitter.com/zYINuRxauY— Uttarakhand Congress (@INCUttarakhand) October 17, 2026کماری شیلجا نے ’نیائے یاترا‘ سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ کانگریس 22 سے 25 اکتوبر تک ریاست میں ’نیائے یاترا‘ نکالے گی۔ اس کے ذریعہ مختلف اسمبلی حلقوں میں پہنچ کر عوام سے متعلق مسائل اٹھائے جائیں گے۔ اتنا ہی نہیں، 27 اور 28 اکتوبر کو اسمبلی اجلاس کے دوران کانگریس اسمبلی کا گھیراؤ بھی کرے گی۔ کانگریس کی تحریکوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوگا، بلکہ یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا۔ بعد ازاں 4 نومبر کو زمینوں سے متعلق مبینہ گھوٹالوں کے خلاف ریاستی اور ضلعی ہیڈکوارٹرس پر دھرنا و احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔