تہران: ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ’ممنوعہ‘ راستے سے گزرنے والا آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ خام تیل کے 20 لاکھ بیرل سے زائد ذخیرے کو لے جانے والا ایک سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔یہ ٹینکر ایک ایسے علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے ’’ممنوعہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ پریس ٹی وی پر نشر ہونے والے آئی آر جی سی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والے اس آئل ٹینکر نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بھی بند کر رکھے تھے اور بحیرۂ عمان میں ایک ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ Iranian Navy announced that an oil tanker violating maritime restrictions caught fire in a restricted area east of the Strait of Hormuz after switching off its tracking systems and attempting to navigate through the area.Follow: https://t.co/oa9JV4iSOo https://t.co/gzok3lin4W— Press TV (@PressTV) October 16, 2026بیان میں مزید کہا گیا ’’ممنوعہ راستوں اور علاقوں میں رابطہ کاری کے بغیر نقل و حرکت کے نتیجے میں دیگر جہازوں کے لیے عدم تحفظ کی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے اور سنگین خطرات جنم لیتے ہیں۔‘‘جنگ کے نتیجے میں زمین و پانی آلودہ ہو گئے، ایرانی صدرآبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں کے دوران آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ تنگ بحری گزرگاہ خلیج فارس کو بحیرۂ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا میں تیل کی عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں تجارتی جہازوں پر حملوں، بارودی سرنگوں کے خدشات اور بحری آمدورفت میں رکاوٹوں سے عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔حالیہ اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران اس آبی گزرگاہ میں متعدد آئل ٹینکروں کو نامعلوم گولوں یا دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا، جب کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک ٹینکر کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانے کی بھی اطلاع دی۔ بحری سلامتی کے اداروں نے ان واقعات کی تحقیقات کرتے ہوئے جہازوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔