سابق امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے میں اخلاقی برتری کھو دی ہے۔’بیلفاسٹ ٹیلی گراف‘ کے مطابق، سابق صدر نے یہ بات شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں، ایوارڈ یافتہ مصنفہ اور صحافی سوزن میکے کے ساتھ گفتگو کے دوران کہی۔انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے سے نمٹنے کے اسرائیلی انداز پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ فوجی طاقت پائیدار سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی، اور فلسطینیوں کو رعایتیں دینے سے انکار کرنا اسرائیل کی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ اس تشدد سے ”ہر کسی کو تکلیف ہونی چاہیے“۔ انہوں نے اسے ایک ایسا تباہ کن چکر قرار دیا جو تاریخی شکایات، سخت رویوں اور گہری تقسیم کی وجہ سے جاری ہے۔انہوں نے یورپ میں یہودی عوام کو درپیش ظلم و ستم کی طویل تاریخ کا اعتراف کیا، لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینیوں نے اپنی زمین کھو کر ناانصافی کا سامنا کیا ہے، یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے یہ بھی ناقابلِ تردید ہے کہ انہوں نے لوگوں سے زمین چھینی اور حد سے تجاوز کیا۔ اور ان لوگوں نے بجا طور پر کہا: ’یہ ناانصافی ہے اور مجھے اپنی زمین واپس چاہیے‘۔انہوں نے کہا، ”اگر اسرائیل کا رویہ یہ ہو کہ ’چونکہ ہم خطے میں سب سے زیادہ طاقتور اور تکنیکی اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، اس لیے ہماری سلامتی کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ ہم اپنی مرضی کے کام کریں، جو چاہیں حاصل کر لیں، اور کسی کو کوئی رعایت نہ دیں‘ ”تو شاید یہ قلیل مدت کے لیے تو کام کر جائے لیکن اگر آپ یہ مؤقف اپناتے ہیں تو آپ اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتے ہیں۔