بالی ووڈ کے مشہور و معروف اداکار عامر خان کے بھانجے عمران خان کو ممبئی پولیس نے 28 اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کا نوٹس دیا ہے۔ دراصل عمران خان پر امیگریشن ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت ہندوستانی شہریت نہ ہوتے ہوئے بھی ہندوستان میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہوئے مظاہرہ میں شرکت پر کارروائی کی گئی ہے۔ انھوں نے ممبئی کے ’اگست کرانتی میدان‘ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا۔ اس دوران ممبئی پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا تھا۔الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مظاہرہ میں شرکت اور حراست میں لیے جانے کی خبر پھیلنے کے بعد بی جے پی لیڈر کریٹ سومیّا نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کی وجہ تھی عمران خان کے پاس ہندوستانی شہریت نہ ہونا۔ دراصل وہ امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ ان کی پیدائش 13 جنوری 1983 کو امریکہ کی ریاست وسکانسن کے شہر میڈیسن میں ہوئی تھی اور ان کے پاس امریکی پاسپورٹ کے ساتھ ہندوستان کا اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی ہے۔ ہندوستانی شہری نہ ہونے کے باوجود ملک میں سیاسی احتجاج میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں ملک سے باہر بھیجنے کا مطالبہ کریٹ سومیا کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر لوگوں نے بھی کیا۔سابق رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا نے اس معاملے میں عمران خان پر براہ راست سوالات اٹھائے ہیں۔ سومیا کا دعویٰ ہے کہ او سی آئی کارڈ رکھنے والا شخص یا کوئی بھی غیر ملکی شہری ہندوستان کی داخلی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ انہوں نے پولیس اور امیگریشن حکام سے اس معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔حالانکہ اس معاملہ میں عمران خان نے اپنا موقف پہلے ہی واضح کر دیا تھا۔ انھوں نے مظاہرہ کے دوران اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’میں یہاں ایک شہری کی حیثیت سے، اس شہر میں رہنے والے ایک انسان کے طور پر آیا ہوں۔ میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ آخر لوگوں کی آمد و رفت کی آزادی کو کیوں محدود کیا جا رہا ہے اور ان کی آواز کو کیوں دبایا جا رہا ہے۔‘‘ بہرحال، ممبئی پولیس نے عمران خان کو نوٹس بھیج کر صاف کر دیا ہے کہ انھیں 28 اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنا ہوگا۔