تہران: ایران نے اپنے مطالبات تسلیم ہونے تک امریکا کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے باوجود ملک کو جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے، انھوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’وعدے کرتا ہے اور پھر انھیں توڑ دیتا ہے۔‘‘باقر قالیباف نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ ایران کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ امریکا کو دوبارہ حملہ کرنے سے کیسے روکا جائے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط ہو جانا بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ امریکا حملہ نہیں کرے گا۔قالیباف نے کہا وہ اپنے وعدے توڑ دیتے ہیں، ایران کو ایک دھونس جمانے والے دشمن کے خلاف لڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ہمیں میدانِ جنگ میں واقعی بہادری سے لڑنا ہوگا، اسی صورت میں ہم پائیدار دفاعی قوت حاصل کر سکیں گے۔وہ 9 طریقے جن سے ٹرمپ انتظامیہ مڈ ٹرم الیکشن میں مداخلت کر سکتی ہےقالیباف نے مزید کہا کہ امریکا کو سزا دی جانی چاہیے اور اسے اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے، تاکہ اسے سمجھ آ سکے کہ اسے ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔Speaker @mb_ghalibaf: Regarding the proposal presented, as we’ve said before, the US president made promises and then broke them. America must be penalized and made to alter its conduct, so it understands that it has to accept the Iranian nation’s rightful demands. https://t.co/vhNwTlbf0N— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 14, 2026انھوں نے کہا تہران امریکا کے ساتھ لامتناہی جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی طویل مذاکرات، تاہم وہ اپنے مطالبات تسلیم کرائے جانے تک لڑائی جاری رکھے گا۔دوسری جانب ایکس پوسٹ میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا ایک آرٹیکل شیئر کرتے ہوئے باقر قالیباف نے لکھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تمام ڈیڈ لائنز گزر چکی ہیں، جن میں ایران پر معاشی دباؤ ڈالنے کی مہم بھی شامل ہے، لیکن اس کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران بدستور قائم ہے اور کام کر رہا ہے۔قالیباف نے طنزیہ انداز میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو فزکس کا نوبیل انعام دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ امریکی دباؤ کے نتائج پر بیسنٹ کی پیش گوئیوں نے وقت کے تعین کی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔