نیٹ فلکس نے ایک ہزار ملازمین کو برطرف کردیا

Wait 5 sec.

لاس اینجلس : عالمی سطح پر مقبول اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے اپنے 1 ہزار ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سال 2022 کے بعد سے اب تک یہ کمپنی کا سب سے بڑا فیصلہ ہے جس کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار افراد ملازمت سے محروم ہوں گے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس کے شریک چیف ایگزیکٹو افسران گریگ پیٹرز اور ٹیڈ سارینڈوس نے ملازمین کو بھیجے گئے ایک اندرونی مراسلے میں تقریباً ایک ہزار ملازمتوں میں کمی کی تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر چھانٹی کمپنی کے پروڈکٹ، ٹیکنالوجی، قانونی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں کی جائے گی۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کا کاروبار مضبوط ہے اور مسلسل ترقی بھی کررہا ہے، تاہم دنیا بھر میں تفریح فراہم کرنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے افرادی قوت اور وسائل کو ترجیحات کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے۔نیٹ فلکس کے مطابق کمپنی رواں سال کے لیے اپنی مالی پیش گوئی کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے، تاہم سرمایہ کاروں میں اس کی مستقبل کی ترقی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔کمپنی کے حصص رواں سال اب تک تقریباً 25 فیصد گر چکے ہیں، تاہم ملازمتوں میں کمی کی خبر سامنے آنے کے بعد بدھ کو حصص کی قیمت میں تقریباً 0.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ نیٹ فلکس میں گزشتہ سال کے اختتام تک تقریباً 16 ہزار ملازمین کام کررہے تھے۔یوٹیوب اور ٹک ٹاک سے سخت مقابلہواضح رہے کہ نیٹ فلکس کو اس وقت روایتی میڈیا کمپنیوں کے علاوہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے، سرمایہ کاروں کے لیے صارفین کی جانب سے نیٹ فلکس پر گزارے جانے والے وقت میں اضافہ یا کمی ایک اہم تشویش بن گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹ فلکس کا سبسکرپشن پر انحصار بھی مستقبل میں اس کی ترقی کی رفتار کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔نیٹ فلکس کی آخری بڑی ملازمتوں میں کمی 2022 میں ہوئی تھی، جب کمپنی نے صارفین کی تعداد میں ایک دہائی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ کمی کے بعد دو مراحل میں تقریباً 450 ملازمین کو فارغ کیا تھا۔نیٹ فلیکس نے فیفا ورلڈ کپ 2030 کے نشریاتی حقوق حاصل کر لیے