ماسکو: یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اگلے ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی اجلاس کی تجویز دی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی صدر پیوٹن کی یہ تجویز 9 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فون گفتگو کے دوران سامنے آئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق روس ایسے مذاکرات کی کوشش چاہتا ہے جو اس کے حق میں ہوں۔دوسری جانب ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے روس امن مذاکرات کی میز سے دور چلا جائے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ٹروتھ سوشل’پر اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے روس امن مذاکرات کی میز سے دور چلا جائے۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری ہلاکت خیز جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے وہ مسلسل مذاکرات کی کوششوں میں مصروف ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کی کہ روسی برآمدات سے متعلق عائد پابندیوں اور ٹیرف کو ہٹانے کا فیصلہ بنیادی طور پر روس کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ روس کے حوالے سے ان کی پالیسی اور فیصلہ انتہائی سادہ اور واضح ہے۔نیتن یاہو امریکا کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہا ہے، عباس عراقچیڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری امن مذاکرات میں اب نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، اور ان مذاکرات میں جنگی قیدیوں و یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔