منی پور میں پھر بھڑک اٹھی تشدد کی آگ، کوکی برادری کے 15 گھر نذر آتش

Wait 5 sec.

منی پور میں تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔ کامجونگ ضلع کے چاساد گاؤں میں مشتبہ شدت پسندوں نے کوکی برادری کے کم از کم 15 گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے کے بعد بڑی تعداد میں دیہاتیوں کو اپنے گھر چھوڑ کر جنگلوں اور قریبی فوجی کیمپ میں پناہ لینی پڑی۔ افسران نے اتوار (18 اکتوبر) کو یہ اطلاع دی۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز گاؤں پر ہوئی فائرنگ میں کوکی برادری کے ایک شہری کی موت ہو گئی تھی، جبکہ 4 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک دیگر واقعے میں کامجونگ ضلعی ہیڈکوارٹر میں حریف مسلح گروہوں کے حملے میں تانگکھول ناگا برادری کے 3 شہریوں کو گولیاں لگیں۔STORY | 15 houses burnt in Manipur's Kamjong, 3 injured in gun attackAt least 15 houses belonging to the Kuki community were set on fire in a hill village in Manipur's Kamjong district, forcing a large number of civilians to flee and take shelter in forest areas and a nearby… pic.twitter.com/H1sffB5r18— Press Trust of India (@PTI_News) October 18, 2026افسران نے بتایا کہ ہفتہ کی دیر رات مشتبہ شدت پسندوں نے چاساد گاؤں پر حملہ کیا اور کوکی برادری کے کم از کم 15 گھروں کو آگ کے حوالے کر دیا۔ آتش زنی کے بعد گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ کئی دیہاتیوں نے جنگلوں اور قریبی فوجی کیمپ میں پناہ لی۔ واقعے کے بعد متاثرہ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔منی پور میں پھر تشدد اور قتل، کامجونگ میں بھیڑ کے حملہ سے ایک خاتون ہلاک، شوہر کی حالت سنگینمنی پور پولیس نے بیان جاری کر بتایا کہ متاثرہ علاقے میں صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے آسام رائفلز، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور کامجونگ پولیس کی مشترکہ ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ سیکورٹی فورسز کا مقصد علاقے میں امن بحال کرنا اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ افسران کے مطابق حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔جل رہا منی پور! 24 گھنٹوں میں 9 افراد کا قتل، 14 گھر نذرِ آتشمنی پور کی نائب وزیر اعلیٰ نیمچا کیپگین نے چاساد گاؤں میں ہوئے تشدد کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کوکی شہری کی موت پر افسوس کا اظہار کیا، زخمیوں اور بے گھر خاندانوں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ کیپگین نے گھروں کو جلانے کے واقعے کو ناقابل برداشت جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ، ریاستی پولیس اور سیکورٹی فورسز کو 24 گھنٹے چوکس رہنے، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے اور واقعے کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔