ڈیزل معاہدے سے روس امریکا اقتصادی تعلقات میں بڑی پیشرفت

Wait 5 sec.

ماسکو : امریکا اور روس کے درمیان حالیہ ڈیزل معاہدے کے باعث دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور اسٹریٹجک صورتحال میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ اس ڈیزل معاہدے کے ذریعے ماسکو کو یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات پر نرمی اختیار کرنے پرمائل کیا جاسکے گا۔اس حوالے سے روسی صدارتی ایلچی برائے سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون کریل دیمترییف نے کہا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مزید اقتصادی تعاون کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دیمترییف نے کہا کہ روس ڈیزل کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے پابندیوں سے متعلق پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پالے گا۔ان کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف ڈیزل کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ امریکا کے ساتھ اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کے کئی دیگر مواقع بھی موجود ہیں، جن سے روس، امریکا اور عالمی منڈیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کا انتخابات سے قبل بڑا اقدامیاد رہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ امریکا میں ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، گزشتہ جمعے کو امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ روس کی جانب سے امریکا اور عالمی منڈیوں کے لیے ڈیزل کی سپلائی جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اس معاہدے کے تحت امریکا کو روس پر عائد اپنی بعض پابندیوں میں نرمی کرنا پڑی، جن میں وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ نے خود عائد کی تھیں۔ تاہم روس سے ڈیزل کی سپلائی کے فیصلے پر یوکرین اور بعض یورپی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔یوں روس اور امریکا کے درمیان ڈیزل کی فراہمی کا یہ معاہدہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے اقتصادی تعلقات، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔وزیراعظم اٹلی کے تحفظاتدوسری جانب اٹلی کے وزیراعظم جارجیا میلونی نے روس اور امریکا کے ڈیزل معاہدے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صدر پیوٹن کو یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے برخلاف ہے۔روس سے ایندھن، ’عوام کیلیے درست فیصلہ کیا، میرے لیے امریکا سب سے پہلے ہے‘