کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے نام خط لکھ کر ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ حد بندی سے متعلق نئی تجاویز کو حتمی شکل دینے اور انہیں پارلیمنٹ میں غور کے لیے پیش کرنے سے پہلے آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو تجاویز پر آپس میں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ حکومت کو ایک بار پھر دور رس اثرات والے آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔Congress President & LoP in the Rajya Sabha Shri @kharge writes to PM Modi on the unprecedented delay in proroguing the Monsoon Session of Parliament and any moves the Modi Govt may be planning. pic.twitter.com/7FminPoCxj— Congress (@INCIndia) October 16, 2026راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کھڑگے نے وزیر اعظم کو لکھے خط میں اس بات کا ذکر کیا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے 64 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے 11 اپریل 2026 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر حد بندی سے متعلق کسی بھی آئینی ترمیمی بل کو پیش کرنے سے پہلے آل پارٹی میٹنگ بلانے کی اپیل کی تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد حکومت نے 14 اپریل کی دیر شام بلوں کو عوام کے سامنے پیش کیا اور 16 اپریل کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کر دیا۔کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو 17 اپریل کو لوک سبھا میں ضروری دو تہائی اکثریت کی حمایت نہیں مل سکی اور حکومت کو ’واضح فرق‘ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے 16 جولائی اور 27 اگست کو بھی وزیر اعظم کو خط لکھ کر آل پارٹی میٹنگ بلانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔ کھڑگے نے کہا کہ اب وہ چوتھی بار یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت اپنی نئی تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کرے۔کانگریس صدر نے خط میں لکھا ہے کہ ’’تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنی سطح پر، ایک دوسرے کے ساتھ اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے حکومت پر پہلے بھی اس معاملے سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے میں عجلت کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت کو دوبارہ ایسی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ گزشتہ بار کی گئی ایسی کوشش پارلیمنٹ میں ناکام رہی تھی اور حکومت کو اس بار وسیع سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کے بعد ہی آگے بڑھنا چاہیے۔