(16 اکتوبر 2026): عام انسانوں کی طرح خواجہ سرا بھی بیمار پڑتے ہیں اگر ان کے اسپتال میں داخلے کی نوبت آ جائے تو انہیں کس وارڈ میں رکھا جائے یہ فیصلہ ہو گیا ہے۔خواجہ سرا معاشرے کا نا قابل تردید حصہ ہیں۔ عام انسانوں کی طرح وہ بھی بیمار پڑتے ہیں اور کبھی اسپتال داخلے کی نوبت آ جائے تو انتظامیہ مخمصے کا شکار ہوتی ہے کہ انہیں کس وارڈ میں رکھا جائے۔تاہم اب محکمہ صحت نے اس حوالے سے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ سرا مریضوں کو اسپتالوں میں ان کی صنفی شناخت کے بجائے حیاتیاتی جنس کے مطابق مردوں یا خواتین کے وارڈز میں رکھا جائے۔یہ فیصلہ برطانوی محکمہ صحت نے کیا ہے، جس کے مطابق مریضوں کی عزت، تحفظ اور طبی ضروریات کو یقینی بنانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق محکمہ صحت کے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی مریض کو حیاتیاتی جنس کے مطابق وارڈ میں رکھنا طبی طور پر مناسب نہ ہو تو اس کے لیے متبادل انتظام کیا جائے۔محکمہ صحت کے جاری نئے ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپتالوں کے عملے کے لیے مخصوص بیت الخلا، کپڑے تبدیل کرنے کے کمرے اور دیگر سہولیات بھی حیاتیاتی جنس کی بنیاد پر استعمال کی جائیں گی۔اس سے قبل خواجہ سرا مریض اپنی صنفی شناخت کے مطابق وارڈز اور سہولیات استعمال کرسکتے تھے۔ تاہم اپریل 2025 میں برطانوی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابقہ ہدایات واپس لے لی گئی تھیں۔