50 سال بعد دنیا بھر میں وقت کے نظام میں بڑی تبدیلی، عام لوگوں پر کیا اثر پڑے گا؟

Wait 5 sec.

دنیا بھر میں وقت کا نظام بدلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 50 سالہ پرانی روایت "لیپ سیکنڈ” کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا، نیا نظام 20 مئی 2027 سے نافذ ہوگا۔تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں وقت کو زمین کی گردش کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔جنرل کانفرنس آن ویٹس اینڈ میژرز نے ووٹنگ کے ذریعے لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت نیا نظام 20 مئی 2027 سے نافذ ہوگا۔موجودہ نظام میں عالمی معیاری وقت کو ایٹمی گھڑیوں کی مدد سے انتہائی درست رکھا جاتا ہے، جبکہ زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ان دونوں کے درمیان فرق کم کرنے کے لیے 1972 سے اب تک 27 مرتبہ اضافی سیکنڈ شامل کیے جا چکے ہیں۔FOLLOW US ON ARY TUBEتاہم وقت میں اس اچانک تبدیلی نے جدید کمپیوٹر سسٹمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مسائل پیدا کیے، سال 2012، 2015 اور 2016 میں لیپ سیکنڈ شامل کیے جانے کے دوران بعض نظام متاثر ہوئے، جبکہ 2012 میں ریڈٹ، لنکڈ اِن اور موزیلا جیسے پلیٹ فارمز کو بھی تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔کانفرنس کے مطابق مستقبل میں منفی لیپ سیکنڈ شامل کرنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی تھی، جس سے کمپیوٹر سسٹمز میں مزید خرابیاں پیدا ہونے کا خدشہ تھا، اسی لیے عالمی وقت کے نظام کو مستقبل میں اضافی سیکنڈ کی تبدیلیوں سے مستثنیٰ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نئے نظام کے تحت عالمی معیاری وقت اور زمین کی گردش پر مبنی وقت کے درمیان فرق بتدریج بڑھ سکے گا، تاہم یہ فرق ایک گھنٹے تک محدود رکھا جائے گا، اس انتظام سے عالمی وقت کا نظام کئی صدیوں تک مستحکم رہ سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس تبدیلی سے عام انسان کی روزمرہ زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن دنیا کا ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر خطرناک تکنیکی تعطل سے محفوظ ہو جائے گا۔