ایران روس رابطوں میں تیزی، لاوروف کی پزشکیان سے ملاقات، علاقائی بحران اور توانائی تعاون پر تبادلۂ خیال

Wait 5 sec.

تہران: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران کے دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ملکوں کی اسٹریٹجک شراکت داری، ایران کے گرد جاری بحران، خلیج فارس کی سلامتی اور دوطرفہ اقتصادی تعاون پر بات چیت ہوئی۔روسی حکام کے مطابق، ماسکو نے ایران سے متعلق صورتِ حال کے حل میں مدد دینے کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا ہے۔صدرِ ایران سے ملاقات: انادولو نیوز کے مطابق پزشکیان نے موجودہ دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور توانائی، تجارت، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دینے کی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ان کا آئندہ دورۂ ماسکو ان معاہدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔روس کی سفارتی معاونت: روسی وزیر خارجہ نے ایران سے متعلق بحران کے حل میں مدد دینے کے لیے ماسکو کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انھوں نے ایرانی حکام کو بحرین میں خلیجی ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا۔خلیج فارس کی سلامتی: روئٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکا ہے۔ انھوں نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ سلامتی کا نظام تشکیل دیں، جس میں بیرونی افواج کی موجودگی پر انحصار نہ ہو۔علاقائی رابطوں میں وسعت: ریڈیو فری یورپ کے مطابق روس اور ایران نے مشرقِ وسطیٰ، خلیج فارس، جنوبی قفقاز اور بحیرۂ کیسپین کی صورتِ حال پر قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ میں رابطہ کاری اور برکس (BRICS)، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور یوریشین اقتصادی اتحاد (EAEU) کے دائرے میں تعاون بڑھانے پر بھی بات کی۔اقتصادی تعاون: مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رسد و ترسیل اور مشترکہ نقل و حمل کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے امکانات زیرِ بحث آئے۔ پزشکیان نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے دوران روس کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔فرانس، بیلجیئم اور اٹلی کے لیے ایرانی شہریوں کو سفری وارننگایران کی قومی سلامتی قیادت سے ملاقات: لاوروف نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات کی۔ تاہم اس ملاقات کی تفصیلی کارروائی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی۔پس منظر اور اہمیت: لاوروف کا دورۂ تہران ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور خلیج فارس میں کشیدگی نے علاقائی سلامتی کو مرکزی سفارتی مسئلہ بنا دیا ہے۔ لاوروف اس دورے سے قبل بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے نمائندوں سے بھی ملے تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کی مدد کے لیے اپنی ممکنہ صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم کردار ادا کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کے تہران مذاکرات میں فوجی یا انٹیلی جنس معاونت کی کسی نئی تفصیل کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔روس ایران معاہدہ: ایران اور روس نے جنوری 2025 میں بیس سالہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں دفاع، سلامتی، توانائی، تجارت اور نقل و حمل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے، تاہم اس میں باہمی دفاع کی ایسی پابند شق موجود نہیں جو دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی جانب سے جنگ میں لازماً شریک ہونے کا پابند بنائے۔