واشنگٹن / ٹوکیو : امریکا نے ڈالر کے بجائے یورو کے ذریعے اچانک جاپانی ین کی غیر معمولی خریداری کرکے کرنسی مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا۔امریکا نے کرنسی کے حوالے سے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے ڈالر کے بجائے یورو کے بدلے جاپانی ین خرید لیے جس سے عالمی کرنسی مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہوگئی۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور جاپان نے کمزور ہوتی ہوئی جاپانی کرنسی کو سہارا دینے کے لیے غیر معمولی طور پر مشترکہ مداخلت کی ہے، جس میں امریکی حکام نے ڈالر فروخت کرنے کے بجائے یورو بیچ کر جاپانی ین خرید لیا، اس اقدام نے عالمی کرنسی منڈیوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔جاپان نے پیر کو تصدیق کی کہ گزشتہ جمعے کو امریکی محکمہ خزانہ کے تعاون سے ین کی خریداری کے لیے مشترکہ مداخلت کی گئی تھی۔ تاہم، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس بار امریکی محکمہ خزانہ نے روایتی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ڈالر کے بجائے یورو فروخت کرکے ین خریدا، جبکہ ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ مداخلت یورو/ ین مارکیٹ میں کی گئی۔ عالمی معاشی تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو انتہائی غیر معمولی بلکہ شاید تاریخ میں پہلی بار قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق امریکا نے یہ حکمت عملی اس لیے اختیار کی تھی تاکہ جاپانی ین کو مضبوط بنانے میں مدد دی جاسکے لیکن ساتھ ہی یہ تاثر نہ جائے کہ واشنگٹن ڈالر کو جان بوجھ کر کمزور کرنا چاہتا ہے کیونکہ امریکا پہلے ہی بلند مہنگائی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ Trump’s team just jumped in with Japan to help steady the yen. They’re working together on the currency stuff, and Bessent’s making it clear the U.S. has Japan’s back on their economic moves and the whole alliance.Currency help like this keeps things calmer overall.…— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 3, 2026 ایم یو ایف جی کے سینئر کرنسی تجزیہ کار لی ہارڈمین کے مطابق اگر ڈالر وسیع پیمانے پر کمزور ہوتا ہے تو درآمدی مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو پر شرح سود مزید بڑھانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔جاپانی وزارت خزانہ نے گزشتہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو بھی کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی، جبکہ پیر کو بھی ین کی قدر میں اچانک اضافے کو ممکنہ طور پر حکومتی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔گزشتہ ہفتے جاپانی ین نے تقریباً 4 فیصد کی مضبوطی حاصل کی، جو دو برسوں میں اس کی سب سے بڑی ہفتہ وار پیش رفت ہے۔یاد رہے کہ جاپانی ین، جو حالیہ دنوں میں ایک ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 164 کی 40 سالہ کم ترین سطح تک پہنچ گیا تھا، اب تقریباً 157 ین فی ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔بارکلیز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورو فروخت کرکے ین خریدنے کا مقصد واضح طور پر صرف جاپانی کرنسی کو سہارا دینا تھا، نہ کہ عالمی سطح پر ڈالر کو کمزور کرنے کا اشارہ دینا۔ادھر جاپان کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمعے کی مشترکہ مداخلت کے دوران جاپان نے تقریباً 36.58 ارب ڈالر مالیت کے ین خریدے۔دوسری جانب یورپی مرکزی بینک نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے حوالے سے یورپی مرکزی بینک اور امریکی فیڈرل ریزرو کے درمیان رابطہ ضرور ہوا ہے۔