سنگاپور (03 اگست 2026): جاپانی کرنسی ین کو مزید کمزور ہونے سے روکنے کے لیے جاپان اور امریکا نے مشترکہ طور پر کرنسی مارکیٹ میں زبردست مداخلت کی ہے، جس کے بعد ین کی قدر مستحکم ہو گئی ہے۔روئٹرز کے مطابق جاپانی وزارتِ خزانہ نے پیر کو کہا کہ جاپان اور امریکا نے ین خریدنے کے لیے مربوط مداخلت کی ہے اور وہ مزید کارروائی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ اس بیان سے ین کی قدر 40 سال کی نئی کم ترین سطح تک گرنے سے روکنے کے لیے کی جانے والی ایک غیر معمولی دو طرفہ کارروائی کی تصدیق ہو گئی۔یہ ایک غیر معمولی دوطرفہ اقدام ہے، کیوں کہ ین حالیہ ہفتوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح، 163.99 ین فی ڈالر، کے قریب پہنچ گیا تھا۔اس مشترکہ مداخلت کے بعد پیر کو ین کی قدر میں 0.5 فی صد بہتری آئی اور ایک ڈالر کی قیمت 156.47 ین ہو گئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ محض کرنسی مارکیٹ میں مداخلت سے ین کی مضبوطی طویل مدت تک برقرار نہیں رہ سکتی، اس کے لیے جاپانی معیشت اور مالیاتی پالیسی کے بنیادی عوامل میں بھی تبدیلی ضروری ہوگی۔ایران کے ساتھ مذاکرات آج شروع ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپاس سے قبل اپریل کے آخر اور مئی کے آغاز میں جاپان نے یک طرفہ مداخلت کی تھی، لیکن اس کے نتیجے میں ین کو صرف عارضی سہارا ملا۔ جون میں بینک آف جاپان کی جانب سے شرحِ سود بڑھانے کا اقدام بھی ین کو نمایاں طور پر مضبوط نہیں کر سکا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ جاپان اور دیگر بڑی معیشتوں، خصوصاً امریکا، کے درمیان شرحِ سود کا وسیع فرق ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر نسبتاً زیادہ پرکشش رہتا ہے۔حالیہ صورت حال میں ین کے خلاف بڑی شرطیں بھی لگائی گئی تھیں۔ امریکی ریگولیٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ین پر خالص شارٹ پوزیشنز تقریباً 12.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جو دو سال کی بلند ترین سطح ہے۔ مشترکہ مداخلت کے بعد ایسی شرطیں لگانے والے سرمایہ کاروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔مشترکہ کارروائی کے اعلان سے قبل ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکا جاپان کو ین کو سہارا دینے میں مدد کر رہا ہے، جو دوستی اور عالمی معیشت کی مدد کی علامت ہے۔ ٹرمپ نے کہا ’’ان کا ین کمزور ہو رہا ہے اور وہ تھوڑی سی مدد چاہتے تھے۔ اور ہم ہمیشہ جاپان کے ساتھ موجود ہیں۔‘‘امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا ہے کہ امریکا آنے والے مہینوں میں فیڈرل ریزرو کی اس سہولت کا حجم بڑھانے پر غور کر سکتا ہے جو عارضی طور پر ڈالر کی لیکویڈیٹی فراہم کرتی ہے۔ ساتھ ہی ان کے بینک آف جاپان کی جانب سے مزید شرح سود میں اضافے کے مطالبات نے بھی مارکیٹ کی توجہ جاپان کی مالیاتی پالیسی کی طرف مرکوز کر دی ہے۔اس کا اثر جاپانی بانڈ مارکیٹ میں بھی نظر آیا۔ دو سالہ جاپانی سرکاری بانڈ کی پیداوار پیر کو 1.545 فی صد تک پہنچ گئی، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ مارکیٹ نے اسے جاپان میں نسبتاً جلد شرح سود میں مزید اضافے کے امکان کے طور پر لیا۔ایران کے ساتھ معاہدے کی امید پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ہوئی ہے، جس کے باعث امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار بھی کم ہو گئی۔ 30 سالہ بانڈ کی پیداوار 3.7 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 5.238 فی صد ہو گئی، جس سے یہ گزشتہ ہفتے چھونے والی 19 سال کی بلند ترین سطح سے مزید نیچے آ گئی۔ جولائی میں اس بانڈ کی پیداوار میں 372 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا، کیوں کہ سرمایہ کار ایران کی جنگ اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتِ حال سے نمٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔