کیمپ ڈیوڈ : امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی ایک ’نوٹ بک‘ کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ وہ جاپانی ین کی 5 سے 10 ارب ڈالر مالیت خریدنے کے امکان پر غور کر رہے تھے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ تصویر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیمپ ڈیوڈ میں لی گئی، جس میں اسکاٹ بیسنٹ کی ’نوٹ بک‘ پر نمایاں طور پر "To Do” (کرنے والے کام) کی سرخی کے نیچے "Buy Japanese Yen (JPY) $5-10 bil.” درج تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی وزارت خزانہ جاپانی کرنسی کی بڑے پیمانے پر خریداری پر غور کر رہی تھی۔امریکی وزارت خزانہ کے ترجمان نے فوری طور پر اس نوٹ کے مندرجات یا اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا وزارت نے جمعہ کو ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کو سہارا دینے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کی یا نہیں۔اس سے تقریباً دو گھنٹے قبل رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ امریکی وزارت خزانہ نے متعدد بینکوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ جاپانی ین کی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتی ہے۔اسی روز جاپانی حکام نے بھی ٹوکیو میں ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کی، جس کے بعد جاپانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔مالیاتی اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے LSEG کے مطابق جمعہ کی سہ پہر ڈالر کی قدر تقریباً 158.9 ین سے کم ہو کر 157.6 ین تک آ گئی، یعنی ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ڈالر کی قدر تقریباً 0.8 فیصد گر گئی، جو ین کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔واضح رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے آخری مرتبہ 2011 میں جاپانی ین کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کی تھی، جب جاپان میں تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد جی-7 ممالک نے مشترکہ کارروائی کی تھی۔