پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے سبب منگل کو لوک سبھا کی کارروائی ایک بار پھر متاثر ہوئی اور ایوان کی کارروائی بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن نے جنتر منتر پر 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ سے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کیا، جس کے باعث ایوان میں شدید شور و غل دیکھنے میں آیا۔لوک سبھا میں منگل کو جیسے ہی کارروائی کا آغاز ہوا، اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں موجود ہو کر جنتر منتر پر مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر حکومت کا موقف واضح کریں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔گزشتہ 3 سال کے دوران خلیجی ممالک میں 4124 ہندوستانیوں کی موت، حکومت نے پارلیمنٹ میں فراہم کی معلوماتلوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ارکان سے متعدد بار اپنی نشستوں پر واپس جانے اور وقفہ سوالات پرامن انداز میں چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اہم عوامی معاملات پر بحث ہونا ضروری ہے اور مسلسل نعرے بازی سے ایوان کی کارروائی متاثر ہو رہی ہے، تاہم اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا۔ہنگامہ نہ تھمنے پر پہلے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کی گئی، لیکن دوبارہ اجلاس شروع ہونے پر بھی حالات معمول پر نہ آ سکے۔ مسلسل شور و غل کے باعث اسپیکر نے کارروائی بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔’مودی-شاہ ایوان میں آئیے، جواب دیجیے‘، اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے آج پھر پارلیمانی احاطہ میں کیا احتجاجی مظاہرہپارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس میں آغاز سے ہی ہنگامہ جاری ہے۔ اپوزیشن نیٹ پیپر لیک معاملے اور جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ و مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر حکومت کو مسلسل گھیر رہی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا اور فائرنگ بھی ہوئی، اس لیے وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں آ کر اس معاملے پر وضاحت دینی چاہیے۔ادھر حکومت کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی بار بار متاثر ہونے سے اہم قانون سازی اور عوامی مفاد سے متعلق امور متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل پیر کو بھی ہنگامہ آرائی کے درمیان سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی آرڈیننس، 2026 کو لوک سبھا نے صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا تھا۔