دبئی : یو اے ای کے مشہور و معروف روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے ’موزہ‘ سے شادی کرکے سوشل میڈیا صارفین کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا، ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا۔دبئی میں اپنی دلچسپ ویڈیوز کے سبب عالمی شہرت حاصل کرنے والے ہیومنائڈ روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے شادی کرلی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔انسٹا گرام پر "موزہ” نامی ہیومنائیڈ روبوٹ کے ساتھ ’بو سنیدہ‘ شادی کی علامتی تقریب کی ویڈیو وائرل ہوگئی لاکھوں صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔بو سنیدہ کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئیں، جن میں روبوٹ کو "موزہ” نامی ایک اور ہیومنائیڈ روبوٹ کے ساتھ شادی کی طرز پر پیش کیا گیا۔دلہن روبوٹ کو سنہری کڑھائی والے سیاہ عبایا میں دکھایا گیا جبکہ اس کے اطراف روایتی اماراتی لباس (کندورہ) میں ملبوس افراد بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ مذکورہ تقریب کسی قانونی یا مذہبی شادی کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ روبوٹ چلانے والی کمپنی کی جانب سے تیار کیا گیا ایک تخلیقی تشہیری مواد (کانٹینٹ) ہے، جس کا مقصد صارفین کی دلچسپی حاصل کرنا تھا۔ View this post on InstagramA post shared by bu sunaidah | بو سنيده (@bu.sunaidah)ویڈیو پر ہزاروں صارفین کے لائکسیہ پوسٹ صرف تین دن میں 41 ہزار سے زائد لائکس، 2 ہزار 300 سے زیادہ تبصرے اور ایک لاکھ 9ہزار سے زائد شیئرز حاصل کر چکی ہے، جس کے بعد یہ "بو سنیدہ” کی مقبول ترین پوسٹس میں شامل ہوگئی۔تاہم صارفین کی رائے منقسم رہی، کئی افراد نے اسے دلچسپ اور مزاحیہ قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے مذہبی اور سماجی تناظر میں اس نوعیت کے مواد پر سوالات بھی اٹھائے۔بو سنیدہ کون ہے؟بو سنیدہ دراصل ’یونیٹری جی1‘ نامی ایک جدید ہیومنائیڈ روبوٹ ہے، جسے تحقیق، تعلیم اور عوامی تقریبات میں انٹرایکٹو مظاہروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اس روبوٹ کو ’ایس ایس لوٹاہ گروپ‘ نے متعارف کرایا، جبکہ کمپنی کے سربراہ یوسف لوٹاہ مختلف مواقع پر اس کے ساتھ نظر آتے رہے ہیں۔بو سنیدہ کو ملک گیر شہرت اس وقت ملی جب وہ دبئی میں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے ہمراہ ایک تقریب میں نظر آیا۔ بعد ازاں یہ "میک اٹ ان دی ایمیریٹس” سمیت متعدد اہم سرکاری اور عوامی تقریبات میں بھی شریک ہوچکا ہے۔رواں سال عید کے موقع پر بو سنیدہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں اسے دبئی کی ایک مسجد میں نمازیوں کے ساتھ عید کی نماز میں شریک دکھایا گیا تھا۔ اس سے قبل اذان دیتے ہوئے اس کی ویڈیو بھی لاکھوں مرتبہ دیکھی گئی، جس پر ٹیکنالوجی اور مذہبی روایات کے امتزاج سے متعلق بحث چھڑ گئی تھی۔