نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین کے مدارس اور یکساں سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ بورڈ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایسے بیانات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جاری بیان میں کہا کہ اسلامی تعلیمی اداروں، یعنی مدارس، پر انتہا پسندی پھیلانے یا شدت پسند تیار کرنے جیسے الزامات سراسر بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور ناقابل قبول ہیں۔ ان کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ہندوستان میں پناہ لے کر رہنے والی ایک غیر ملکی شہری ملک کے مذہبی، آئینی اور سماجی معاملات پر اشتعال انگیز تبصرے کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو مذہبی اداروں کو بدنام کرنے، نفرت انگیز ماحول پیدا کرنے یا ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت دی جائے۔ڈاکٹر الیاس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کو قانون کی حدود میں رہنے کا پابند بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے بیانات کی تکرار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلے میں ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔بنگال میں بی جے پی کے آتے ہی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی چاندی...سہیل انجمبورڈ نے تسلیمہ نسرین کے بنگلہ دیش سے متعلق تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ڈاکٹر الیاس کے مطابق ان کے بیانات ہندوستان کی متوازن خارجہ پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے اور ان سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اس پہلو کا بھی جائزہ لینے کی اپیل کی۔بیان میں کہا گیا کہ مدارس کو بدنام کرنے کی مہم نئی نہیں ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے اس نوعیت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم آج تک ان کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ ملک کی کسی بھی تفتیشی یا سکیورٹی ایجنسی نے اب تک مدارس کے خلاف ایسے الزامات کی تصدیق نہیں کی۔بنگلہ دیش کی مشہور مصنفہ تسلیمہ نسرین کی 20 سال بعد کیوں ہو رہی کولکاتا آمد؟ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ملک بھر میں ہزاروں مدارس سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے متعدد طلبہ بعد میں جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عدلیہ، تعلیم، صحافت، سول سروس، سماجی خدمات اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان کے اختتام پر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تسلیمہ نسرین کے اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس لے، غیر ملکی پناہ گزینوں کو ہندوستان کے داخلی اور مذہبی معاملات میں مداخلت سے روکے اور ملک کے آئینی و سماجی تانے بانے کو نفرت پر مبنی سیاست سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔