’افغان طالبان کا انجام قریب ہے‘ سابق رکن پارلیمنٹ کی جلد افغان رجیم کے خاتمے کی پیشگوئی

Wait 5 sec.

کابل(3 اگست 2026): سابق افغان رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کا انجام اب قریب آ چکا ہے اور دنیا بھر میں مقیم افغان رہنما اس جابر رجیم کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں۔افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے طالبان رجیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان کا اصل مقصد اسلام کو خواتین، جدید تعلیم، فن اور انسانیت کے خلاف ایک جابر مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے۔بکتاش سیاوش نے مزید پیشگوئی کی کہ ایک مخصوص اور طے شدہ مدت تک طالبان رجیم کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ پس پردہ محرکین اپنے مذموم اہداف مکمل کر سکیں۔ جب دینِ اسلام کے خلاف یہ منفی مقصد پورا ہو جائے گا، تو افغان طالبان رجیم کا وجود بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔دوسری جانب، عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیوں نے ان کی اصلیت دنیا پر واضح کر دی ہے اور اب افغان معاشرہ مزید اس جبر کو تسلیم نہیں کرے گا۔ماہرین کے مطابق افغانستان میں جاری مسلح مزاحمتی تحریکیں اور ان کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان عوام اس جابر رجیم کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔