کٹھمنڈو(3 اگست 2026): جنوبی نیپال میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس کے باعث متعدد شہروں اور قصبوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔رپورٹس کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے حملوں کے دوران ایک مسجد کے مینار پر لگا لاؤڈ اسپیکر اتار کر پھینک دیا اور وہاں اپنی انتہا پسند جماعت کا جھنڈا لہرادیا۔ اس دوران مسلمانوں کی جھونپڑیوں کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا، اور کئی خواتین کو روتے اور فریاد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔اس پرتشدد سلسلے کا آغاز گزشتہ ہفتے بھارت کی سرحد سے ملحقہ ضلع سنسری میں ہندوؤں کے سالانہ مذہبی جلوس کے دوران ہوا۔موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے حساس علاقوں میں گشت بڑھا دی گئی ہے۔دوسری جانب نیپالی حکام نے دونوں برادریوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔