سپریم کورٹ نے نیٹ پیپر لیک اور امتحان میں بے ضابطگی معاملہ پر طلبا کی تحریک کے دوران ہوئے تشدد سے متعلق عرضیوں پر سماعت کے دوران اپنے گزشتہ حکم میں کچھ ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ ریاستوں کو مقدمات واپس لینے کی آزادی رہے گی، لیکن سنگین جرائم والے لوگوں کو کوئی راحت نہیں ملے گی۔ یعنی ریاستیں مظاہرین کے خلاف مقدمات ختم کر سکتی ہیں یا واپس لے سکتی ہیں۔ اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 19 اگست کو ہوگی۔سپریم کورٹ نے آج کہا کہ ’مجرمانہ ریکارڈ والے مظاہرین‘ کے حکم کا مطلب صرف ان لوگوں سے تھا، جن پر سنگین جرائم (جیسے قتل) کے الزامات لگے ہیں، یعنی معمولی نوعیت کے الزامات والے یا سیاسی وجوہات سے مظاہرہ کرنے والوں کو راحت ملے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر کو لے کر حکومت اپنے پہلے دیے گئے وعدے پر پوری طرح قائم ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ 28 جولائی کے حکم سے متعلق یہ واضح کیا جاتا ہے کہ دہلی اور کوئی بھی دوسری ریاست مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر کو بند کرنے یا واپس لینے کے لیے آزاد ہے۔آج ہوئی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ گوپال نے کہا کہ ہم نے ایسے پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کی ہے جو وردی میں نہیں تھے یا ان کی سرگرمیاں درست نہیں تھیں۔ یہ معاملہ براہ راست طلبا اور پولیس سے متعلق ہے۔ بہت سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ وہاں کارروائی میں غنڈے شامل تھے اور حکومت کے جواب میں ان تمام باتوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ کسی کو ظلم کرنے کا لائسنس نہیں ملا ہے۔ اس سلسلہ میں سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے بھی کہا کہ بنچ کو اس معاملے میں جواب کے لیے مختلف پہلوؤں پر ہدایات دینی چاہئیں، ورنہ جواب ہی نہیں ملیں گے۔ گوپال نے کہا کہ اس معاملے میں حکم کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ان پولیس افسران کی شناخت کر لی ہے جنہوں نے کارروائی کی تھی۔ حلف نامے میں یہ بتایا جانا چاہیے کہ آر اے ایف کو ہدایات دینے کا ذمہ دار کون تھا۔عرضی دہندہ کے وکیل نے واضح لفظوں میں کہا کہ پولیس کمشنر اور آر اے ایف ڈائریکٹر کو ہدایات بھیجی جانی چاہئیں اور ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے پیلیٹ گن اور لاٹھی چارج کی اجازت کیسے دی۔ پولیس کو اس طرح کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہم نے ویڈیوز پیش کیے ہیں۔ ہم عدالت کی توجہ اس سنگین معاملے کی جانب دلا رہے ہیں۔ حلف نامے میں ان سوالات کے جواب دیے جانے چاہئیں۔اس درمیان سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مظاہرے میں کئی ایسے لوگ تھے جن پر عصمت دری، قتل سمیت دیگر مجرمانہ مقدمات پہلے سے درج ہیں۔ مہتا نے کہا کہ میں نے ورندا گروور کے ساتھ فہرست شیئر کی تھی۔ اس میں عصمت دری، قتل اور پاکسو جیسے مقدمات تھے۔ ڈرائیونگ سے متعلق خلاف ورزی کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔دوسری طرف ایک درخواست گزار کی جانب سے وکیل نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا کی قیادت میں تحقیقات کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ ورندا گروور نے پیلیٹ گن کے استعمال پر کہا کہ جموں و کشمیر کے بعد دہلی میں اس کا استعمال کیا گیا۔ کیا اس کا کوئی حکم تھا؟ اس بارے میں جواب دیا جائے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ سالیسیٹر جنرل جواب میں پیلیٹ گن کے بارے میں بھی وضاحت پیش کریں۔ ریاستوں کے چیف سکریٹریز بھی آج آن لائن پیش ہوئے تھے، چیف جسٹس آف انڈیا نے انہیں بھی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔