(2 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر نئے حملوں سے کیوں پیچھے ہٹنا پڑا، اس حوالے سے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اہم دعویٰ کر دیا۔وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران پر نئے حملے روکنے اور سفارتی راستہ اپنانے پر دباؤ ڈالا، ایران سے جنگ امریکی ووٹرز میں غیر مقبول ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگ کی صورت میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) سے قبل ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ایرانی حکام ڈونلڈ ٹرمپ کی اندرونی سیاسی مشکلات کو مذاکرات میں اپنے لیے ممکنہ فائدہ سمجھتے ہیں۔یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ مڈٹرم الیکشن کے نتائج پر زیادہ فکر مند نہیں، امریکی میڈیا کا دعویٰامریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک امریکا کی ایران پالیسی پر غیر یقینی صورتحال کے باعث شدید تشویش کا شکار ہیں، سعودی عرب نے امریکی صدر پر سفارتکاری اور کشیدگی میں فوری کمی کو ترجیح دینے پر زور دیا جبکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے خلاف سخت امریکی فوجی کارروائی کا حامی ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق قطر نے آبنائے ہرمز کھولنے کی نئی تجویز پیش کی جس پر ایران نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، تاہم جہاز رانی کے راستوں کے کنٹرول اور ٹرانزٹ فیس سمیت اہم معاملات پر تاحال اختلافات برقرار ہیں۔