نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنا تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موسمی اثرات کو مکمل طور پر الگ کرنے کے بعد بھی شہر میں پی ایم 10 کی حقیقی سطح مسلسل 64 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق مئی سے اب تک دستیاب اعداد و شمار میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب پی ایم 10 گزشتہ سال کی سطح سے نیچے ریکارڈ کیا گیا ہو، جبکہ ایک دن کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ یکم اگست صبح 10 بجے سے 2 اگست صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ اس کا موازنہ گزشتہ سال 26 جولائی سے 9 اگست 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ کا اثر نتائج پر نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار اشاریے کے مطابق دہلی کا اوسط فضائی معیار اشاریہ 87 ریکارڈ کیا گیا، تاہم موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد یہی اشاریہ بڑھ کر 89 ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر صاف دکھائی دینے والی ہوا کے باوجود حقیقی فضائی آلودگی زیادہ ہے۔اجے ماکن نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے کے عمل، جسے ’ڈی ویدرنگ‘ کہا جاتا ہے، میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے عوامل کو ریاضیاتی طریقے سے اعداد و شمار سے الگ کیا جاتا ہے تاکہ شہر کی اصل آلودگی کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ان کے مطابق یہی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ دہلی کی حقیقی فضائی آلودگی مسلسل 64 دن سے گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ رواں سال اب تک کے 213 دنوں میں سے 140 دن ایسے رہے جن میں پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ان 64 مسلسل دنوں کے دوران اوسط فرق تقریباً 15 مائیکروگرام رہا۔ ان کے مطابق اگر فضائی آلودگی میں اضافہ صرف موسم کی وجہ سے ہوتا تو بعض دنوں میں یہ سطح گزشتہ سال سے کم بھی ہوتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔اجے ماکن کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی کا فضائی معیار اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نو پوائنٹس زیادہ ہے، جبکہ پی ایم 2.5، پی ایم 10 اور سلفر ڈائی آکسائیڈ اس اضافے کے اہم اسباب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات میں سے پانچ آلودگی پھیلانے والے عناصر کی صورتحال یا تو جوں کی توں ہے یا مزید خراب ہوئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال فضائی اختلاط کی بلندی گزشتہ سال کے 478.2 میٹر کے مقابلے میں بڑھ کر 565 میٹر ہو گئی، جس کے باعث آلودگی زیادہ پھیل گئی اور ہوا نسبتاً صاف دکھائی دی، لیکن حقیقی آلودگی میں کمی نہیں آئی۔ ان کے مطابق دہلی کے تمام 29 متعلقہ فضائی نگرانی مراکز گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسطاً نو پوائنٹس زیادہ آلودہ پائے گئے اور شہر کا کوئی بھی مرکز اس رجحان سے محفوظ نہیں رہا۔اجے ماکن نے کہا کہ 39 میں سے 38 فضائی نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 اور 42 میں سے تمام 42 مراکز پر پی ایم 10 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی دہلی میں پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے 2.4 گنا زیادہ ہے، جبکہ وزیرپور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں موسمی اثرات الگ کرنے پر فضائی معیار اشاریہ 135 اور پی ایم 10 کی سطح 150.9 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 3.4 گنا زیادہ ہے۔اجے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے ذرائع پر فوری کارروائی کی جائے، وزیرپور جیسے علاقوں میں مقامی سطح پر سخت اقدامات کیے جائیں، تمام فضائی نگرانی مراکز کا حقیقی وقت کا ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب کیا جائے اور متعلقہ اداروں کی جوابدہی طے کی جائے۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘‘