زمین کو تباہی سے بچانے کیلیے چینی سائنس دانوں کی نئی تحقیق

Wait 5 sec.

بیجنگ : چینی سائنس دانوں نے زمین سے ٹکرانے والے ممکنہ خطرناک شہابیوں (ایسٹورائیڈز) کا رخ موڑنے یا انہیں تباہ کرنے کے لیے ایک نیا دفاعی منصوبہ پیش کیا ہے۔اس حوالے سے چینی سائنس دانوں نے جو مؤثر طریقہ تجویز کیا ہے اس کے مطابق شہابیے کے اندر جوہری ڈیوائس نصب کرکے دھماکا کرنا بڑے خطرات سے نمٹنے کا مؤثر ترین طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق چائنا اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی کے محققین کا کہنا ہے کہ انسانی تہذیب کے لیے بڑے شہابیے ہمیشہ سے ایک سنگین خطرہ رہے ہیں، کیونکہ ماضی میں ان ہی کی ٹکراؤ سے بڑے پیمانے پر جانداروں کی نسلیں ختم ہوئیں اور ماحول میں تباہ کن تبدیلیاں آئیں۔سائنس دانوں کے مطابق حالیہ برسوں میں ماہرین فلکیات نے سیکڑوں میٹر تک چوڑائی رکھنے والے متعدد شہابیے دریافت کیے ہیں، جو زمین کے انتہائی قریب سے گزرے، جس کے بعد سیاروں کے دفاع کے نئے طریقوں پر تحقیق میں تیزی آئی ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بڑے شہابیوں کو تباہ کرنے یا ان کا رخ زمین سے دور موڑنے کے لیے جوہری دھماکا سب سے مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب خطرے سے نمٹنے کے لیے وقت بہت کم ہو۔محققین نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں پہلے ایک خلائی جہاز شہابیے پر ایک گہرا گڑھا بنائے گا، پھر اسی گڑھے میں ایک جوہری ڈیوائس نصب کرکے دھماکا کیا جائے گا تاکہ شہابیے کی سمت تبدیل کی جاسکے یا اسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاسکے۔تحقیق کے مطابق اگر تقریباً 100 میٹر چوڑے شہابیے پر ہیروشیما پر گرائے گئے بم کے 200 گنا طاقت کے برابر دھماکا کیا جائے تو اسے مکمل طور پر تباہ کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح تقریباً ایک کلومیٹر چوڑے شہابیے میں 20 میٹر گہرے مقام پر دھماکا اس کی رفتار کو اتنا تبدیل کرسکتا ہے کہ وہ زمین سے محفوظ فاصلے پر گزر جائے۔محققین کے مطابق یہ تحقیق مستقبل میں زمین کے قریب آنے والے بڑے شہابیوں سے دفاع کے لیے نئی راہیں ہموار کرسکتی ہے۔