خطرناک وائرس سے پرندوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت

Wait 5 sec.

کینبرا : آسٹریلیا میں پہلی بار برڈ فلو سے آبی پرندوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت سے جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔گزشتہ روز جنوبی آسٹریلیا کے ساحلی علاقے بوڈن راکس اور کیپ جافا کے قریب درجنوں آبی پرندے مردہ حالت میں جبکہ 35 میں برڈ فلو ٹیسٹ مثبت پائے گئے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی محمکہ صحت کے حکام نے پہلی مرتبہ برڈ فلو کے باعث سمندری پرندوں کی اجتماعی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگلی حیات میں ایچ 5این1 نامی وائرس کے مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، اگرچہ ملک کے پولٹری فارمز تاحال اس وائرس سے محفوظ ہیں۔آسٹریلوی وزیر زراعت نے میڈیا کو بتایا کہ جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ سے تقریباً 250 کلومیٹر دور کیپ جوفا کے ساحلی علاقے میں ہیلی کاپٹر سرویلنس کے دوران 49 مردہ اور 35 بیمار پرندے پائے گئے، جن کے نمونوں میں ایچ 5این1 وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔وزیر زراعت کے مطابق یہ آسٹریلیا میں پہلی بار ہے کہ برڈ فلو کے باعث جنگلی سمندری پرندوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اب جبکہ وائرس جنگلی حیات اور قدرتی ماحول میں داخل ہوچکا ہے، مستقبل میں مزید علاقوں میں اس کے پھیلنے اور پرندوں کی بڑی تعداد متاثر ہونے کا امکان ہے۔حکام کے مطابق ملک بھر میں اب تک 74 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر جنوبی آسٹریلیا میں سامنے آئے، تاہم ویسٹرن آسٹریلیا اور کوئنزلینڈ میں بھی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔وائرس کی پہلی تصدیق جون میں ہونے کے بعد سے بیشتر فارمز پر سخت سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں تاکہ مرغیوں اور دیگر پولٹری کو محفوظ رکھا جاسکے۔ماہرین کے مطابق ایچ 5این1 وائرس گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں کروڑوں پرندوں اور دیگر جانوروں کی ہلاکت کا سبب بن چکا ہے، جس سے پولٹری انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ امریکا میں یہ وائرس مویشیوں تک بھی منتقل ہو چکا ہے، جبکہ کئی ساحلی علاقوں میں مردہ پرندوں اور سیلز کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔بھارت میں برڈ فلو : چکن اور انڈوں کی فروخت اچانک بند