ہوائی جہازوں کی کھڑکیاں بھی نایاب ہوگئیں

Wait 5 sec.

واشنگٹن : کیلیفورنیا فیکٹری حادثے کے بعد ہوائی جہازوں کی کھڑکیوں کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، بوئنگ نے ایئر لائنز کو اہم ہدایات جاری کردیں۔ دنیا بھر میں مسافر اور کاک پٹ ونڈوز تیار کرنے والی بڑی کمپنی جی کے این ایرو اسپیس کی کیلیفورنیا میں واقع فیکٹری میں پیش آنے والے حادثے کے بعد ہوائی جہازوں کی کھڑکیوں کی فراہمی متاثر ہوگئی ہے۔سپلائی متاثر ہونے کے باعث طیارہ ساز کمپنیوں، ایئر لائنز اور مرمت کے مراکز نے دستیاب ونڈوز کے محتاط استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مئی کے آخر میں لاس اینجلس میں واقع جی کے این ایرو اسپیس کی فیکٹری میں ایک صنعتی ٹینک کے زیادہ گرم ہونے سے دھماکے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا، جس کے باعث تقریباً 50 ہزار افراد کو علاقے سے محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا اور فیکٹری میں پیداوار بھی عارضی طور پر بند کردی گئی تھی۔جی کے این ایرو اسپیس دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے جو بوئنگ 737 میکس، ایئربس اے220، اے350سمیت مختلف طیاروں کے لیے کاک پٹ اور مسافروں کی کھڑکیاں تیار کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگرچہ اس واقعے سے نئے طیاروں کی پیداوار یا ایئرلائنز کے آپریشنز فوری طور پر متاثر نہیں ہوئے، تاہم پرزوں کی فراہمی میں تاخیر اور کھڑکیوں کی دستیابی کے حوالے سے صنعت میں تشویش بڑھ گئی ہے۔امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے ایئرلائنز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موجودہ ونڈوز کے ذخائر کو احتیاط سے استعمال کریں اور صرف اسی صورت میں کھڑکیاں تبدیل کریں جب یہ حفاظتی یا فنی طور پر ناگزیر ہوں، محض ظاہری خوبصورتی یا معمولی خرابی کی بنیاد پر تبدیلی سے گریز کیا جائے۔بوئنگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے سپلائر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ممکنہ اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب جی کے این ایرو اسپیس کی مالک کمپنی میلروز انڈسٹریز نے کہا ہے کہ فیکٹری میں جزوی طور پر پیداوار دوبارہ شروع ہوچکی ہے اور کمپنی کا ہدف ہے کہ 2026 کے اختتام تک اسے مکمل استعداد پر بحال کردیا جائے۔ماہرین کے مطابق وبا کے بعد اگرچہ فضائی صنعت کی سپلائی چین میں بہتری آئی ہے، تاہم ہوائی جہازوں کے پرزہ جات، خصوصاً ونڈوز اور انجنوں کی فراہمی اب بھی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ ایک طرف نئے طیاروں کی تیاری بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب پرانے طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بھی ان ہی پرزوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ایئربس کے اے220 پروگرام سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ونڈوز کی کمی کا سامنا ضرور رہا، تاہم اس سے طیاروں کی پیداوار میں تاخیر نہیں ہوئی۔کیلیفورنیا فیکٹری حادثہواضح رہے کہ رواں سال مئی میں کیلیفورنیا میں واقع جی کے این ایرو اسپیس فیکٹری میں ایک بڑا کیمیائی حادثہ پیش آیا تھا، جہاں ایک بڑے اسٹوریج ٹینک کے کولنگ سسٹم میں خرابی کی وجہ سے انتہائی آتش گیر کیمیکل گرم ہوگیا اور دھماکے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔فیکٹری میں موجود ایک ٹینک کا والو خراب ہونے کے باعث اس کا کولنگ سسٹم ناکام ہوگیا تھا۔ اس ٹینک میں لگ بھگ 7 ہزار گیلن میتھائل میتھا کریلیٹ (ایم ایم اے) نامی انتہائی آتش گیر اور غیر مستحکم مائع کیمیکل موجود تھا۔