ابھیشیک بنرجی کے بیرون ملک علاج کی درخواست پر ایک ہفتے میں فیصلہ کرے کلکتہ ہائی کورٹ: سپریم کورٹ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی ابھیشیک بنرجی کی آنکھوں کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق عرضی پر کلکتہ ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اس معاملے کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنائے۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے پیر کو سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ عدالت عظمیٰ میں ابھیشیک بنرجی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو آنکھوں کے علاج کے لیے فوری طور پر بیرون ملک جانے کی ضرورت ہے، لیکن کلکتہ ہائی کورٹ میں مسلسل تاخیر کے باعث انہیں طبی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ جب معاملہ پہلے ہی کلکتہ ہائی کورٹ کے زیر سماعت ہے اور وہاں درخواست گزار کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے تو پھر براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس پر وکیل نے کہا کہ درخواست ایک فوری طبی ضرورت سے متعلق ہے اور ہائی کورٹ میں بار بار ملتوی ہونے والی سماعتوں کے باعث اعلیٰ عدالت سے مداخلت کی درخواست کی گئی۔دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر درخواست کی سماعت مکمل کرے اور اس پر فیصلہ صادر کرے۔ابھیشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنا وائس سیمپل بھی فراہم کیا ہے اور عدالت کی تمام ہدایات پر عمل کیا ہے، اس کے باوجود آنکھوں کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق ان کی درخواست تاحال زیر التوا ہے۔اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ نے ان کی فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جبکہ اصل درخواست بھی زیر غور تھی۔ سماعت کے دوران بنرجی کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ڈائمنڈ ہاربر سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی گزشتہ تقریباً دس برس سے امریکہ میں اپنی آنکھوں کا علاج کراتے رہے ہیں اور انہیں مسلسل خصوصی طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔ریاستی حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ابھیشیک بنرجی کئی مقدمات، جن میں ڈی جے معاملہ بھی شامل ہے، میں تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کے مطابق بیرون ملک سفر کی اجازت دینے سے جاری تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے اس موقع پر ہدایت دی تھی کہ ابھیشیک بنرجی پہلے کولکاتا کے ایس ایس کے ایم اسپتال کے شعبۂ امراضِ چشم کے سربراہ سے معائنہ کرائیں۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ اگر طبی ماہرین یہ رائے دیں کہ مطلوبہ علاج کولکاتا میں دستیاب نہیں اور بیرون ملک علاج طبی طور پر ناگزیر ہے تو اس رائے کو بیرون ملک سفر کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت مناسب اہمیت دی جائے گی۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ فیصلہ کرتے وقت ماضی کی طبی تاریخ کے بجائے موجودہ طبی حالت کو بنیاد بنایا جائے۔واضح رہے کہ اکتوبر 2016 میں مرشد آباد سے کولکاتا واپسی کے دوران ایک سڑک حادثے میں ابھیشیک بنرجی کی آنکھ کے نیچے شدید چوٹ آئی تھی۔ ابتدائی علاج ہندوستان میں کرانے کے بعد وہ مزید علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے اور اس کے بعد سے وقتاً فوقتاً امریکہ میں طبی مشورہ اور علاج حاصل کرتے رہے ہیں۔