ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ 2 اگست کو بھی بارش کے سبب سیلاب جیسے حالات دیکھے گئے۔ آسام، کیرالہ، چھتیس گڑھ اور گجرات میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے کئی افراد کی موت ہو چکی ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے، جس کی وجہ سے کافی لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ خبر کے مطابق شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے آسام میں اب تک 82 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ کیرالہ میں 8 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ شدید بارش کے سبب چھتیس گڑھ کے ابوجھماڑ علاقے میں سیلاب آ گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر نارائناپور ضلع میں پڑا ہے، جہاں 50 سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور 2 لڑکیوں کی موت ہو گئی ہے۔ وہیں ’ہندوستانی محکمہ موسمیات‘ (آئی ایم ڈی) نے آنے والے کئی دنوں تک ان ریاستوں میں شیدید ترین بارش اور اچانک سیلاب آنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔چھتیس گڑھ کے وزیر کیدار کشیپ نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے بتایا کہ ’’علاقے میں 28، 29، اور 30 جولائی کو بہت بارش ہوئی تھی، جو کہ اوسط بارش سے کہیں زیادہ تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے بادل پھٹ گئے ہوں۔ حالانکہ ریاستی حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ بارش اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے پاس جلد از جلد امداد پہنچائی جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ریاست میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے کافی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ مقامی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ضلع انتظامیہ محنت و مشقت کے ساتھ راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہے۔ آسام کی بات کی جائے تو ’ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اتھارٹی‘ (اے ایس ڈی ایم اے) کی یکم اگست کی رپورٹ کے مطابق ریاست میں سیلاب کی وجہ سے اب تک 82 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست کے شیو ساگر اور چرائیدیو میں ایک ایک اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ ناگون اور چرائیدیو کے 379 گاؤں میں ایک لاکھ 92 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔شدید بارش اور سیلاب کے سبب کیرالہ میں اب تک 8 اموات کی تصدیق ہوئی ہے، 8 افراد لاپتہ ہیں اور 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران 27 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور 196 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے 209 کیمپوں میں کل 5792 لوگوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ بارش کا رخ اب سوراشٹر کی طرف ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ گجرات کے علاوہ ساحلی ریاست اڈیشہ میں بھی سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ محکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش کے لیے بھی ریڈ اور آرینج الرٹ جاری کیا ہے۔ آسام اور اتراکھنڈ میں بھی آبی سطح بڑھنے کی وجہ سے ہائی الرٹ ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں میں شدید بارش اور سیلاب کے مدنظر محکمۂ موسمیات نے بتایا ہے کہ اگلے 4 اور 5 دنوں تک شمال مشرقی ہندوستان، وسطی اور مشرقی ہمالیائی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ جبکہ جنوبی جزیرہ نما ہندوستان میں بارش کی کمی کا امکان ہے۔ محکمۂ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، لداخ اور اتراکھنڈ کے ساتھ ساتھ کیرلم اور جنوبی اندرونی کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔