اترپردیش کے غازی پور سے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے عبوری راحت ملی ہے۔ سماجوادی پارٹی لیڈر کو اسلحہ لائسنس کی فائل غائب ہونے کے معاملے میں اب پولیس گرفتاری نہیں کرے گی۔ دراصل ہائی کورٹ نے اسلحہ لائسنس کی فائل غائب ہونے کے معاملے میں جابرانہ کارروائی پر پابندی لگا دی ہے۔ عرضی گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ 1983 سے 87 کے درمیان کی فائل غائب ہے، جبکہ ایف آئی آر 22 جولائی 2026 کو درج کرائی گئی ہے۔برائی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو دی جاتی ہے دھمکی، کوئی فرق نہیں پڑتا: افضال انصاریدوسری جانب افضال انصاری کے اسلحہ لائسنس کی فائل غائب ہونے کے معاملے میں ریاستی حکومت کے وکیل نے معلومات فراہم کرنے کے لیے عدالت سے وقت مانگا ہے۔ اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 10 اگست کو ہوگی۔ جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس اچل سچدیو کی ڈیویژن بنچ میں افضال انصاری کے اسلحہ لائسنس کی فائل غائب ہونے کے معاملے میں سماعت ہوئی۔واضح رہے کہ اترپردیش پولیس نے گزشتہ دنوں مختار انصاری کے گینگ اور ان کے اہل خانہ کو جاری اسلحہ کے لائسنسوں کی جانچ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا۔ پولیس نے جانچ کی بنیاد پور غازی پور سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری، مختار انصاری کی بیوی افشاں بیگم، گینگ کے ساتھیوں اور اس وقت کے اسلحہ کلرک اور دیگر افسران کے خلاف کل 5 مقدمات درج کیے تھے۔ حالانکہ اب ہائی کورٹ نے افضال انصاری کو اس معاملے میں عبوری راحت دے دی ہے۔پولیس کے مطابق جانچ میں سامنے آیا کہ کئی اسلحہ لائسنسوں کی اصل فائلیں اور ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق ریکارڈز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس، غازی پور سے غائب ہیں۔ پولیس کے مطابق ان ریکارڈز کو اس وقت کے اسلحہ کلرکوں اور افسران کی مبینہ ملی بھگت سے غائب کرایا گیا، تاکہ ہتھیاروں کی اصل صورتحال کو چھپایا جا سکے اور ان کے غلط استعمال کا پتہ نہ چل سکے۔