ایران کو کوشش کرنی ہوگی کہ امریکا ایم او یو پر عمل کرے، مسعود پزشکیان

Wait 5 sec.

تہران (03 اگست 2026): ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایم او یو (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) کو ایرانی شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانش مندی کا نتیجہ قرار دے دیا۔ایرانی صدر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو)، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجتماعی فیصلے کا نتیجہ تھی اور یہ ملک کے مستقبل کے خارجہ تعلقات کی بنیاد کے طور پر کام کرے گی۔مسعود پزشکیان نے کہا ’’ہمیں اس امر کے لیے کوشش کرنی چاہیے کہ دشمن کو اس بات کا پابند رہنے پر مجبور کریں جس پر اس نے دستخط کیے ہیں۔ اس مفاہمت کی یادداشت کے نتیجے میں ملک، خطے اور ہمارے اتحادیوں کی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔‘‘تفاهم‌نامه‌ای که امضا شد حاصل خرد جمعی اعضای شعام بود و همه اعضا با آن همدل‌اند. باور دارم این تفاهم‌نامه مرکز ثقل روابط خارجی ما در آینده خواهد بود. باید بکوشیم دشمن را وادار کنیم به آنچه امضا کرده پایبند بماند. امنیت کشور، منطقه و هم‌پیمانان ما با این تفاهم‌نامه ارتقا می‌یابد.— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) August 2, 2026انھوں نے کہا یہ یادداشت مستقبل میں ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنے گی، ایران کو کوشش کرنی ہوگی کہ امریکا اس معاہدے پر عمل کرے۔تہران کے ساتھ مذاکرات آج شروع ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپیاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر 17 اور 18 جون 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے تھے۔ 14 نکاتی عبوری معاہدے کا مقصد جنگ بندی کو باضابطہ شکل دینا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے سے نمٹنا، اور مستقل قیامِ امن کی شرائط طے کرنے کے لیے 60 روزہ مدت کا آغاز کرنا تھا۔