کانگریس نے ملک کی بڑی پرائیویٹ کمپنیوں میں نئی بھرتیوں میں آئی کمی کے دعوے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک اخبار کی کٹنگ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہم جو بار بار کہہ رہے تھے وہی سچ ثابت ہو رہا ہے۔ مودی حکومت نے ملک کی معیشت کو گہرا نقصان پہنچایا ہے اور اس کا سب سے برا اثر نوجوانوں پر پڑا ہے۔‘‘हम जो बार-बार कह रहे थे, वही सच साबित हो रहा है। मोदी सरकार ने देश की अर्थव्यवस्था को गहरा नुकसान पहुँचाया है और उसका सबसे बड़ा दुष्प्रभाव युवाओं पर पड़ा है।पिछले एक साल में देश की शीर्ष 11 कंपनियों में से 9 में नई नौकरियों में 27 प्रतिशत की गिरावट यह बताती है कि देश गंभीर… pic.twitter.com/6aVURnPaVK— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) August 4, 2026کانگریس لیڈر جے رام رمیش اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’گزشتہ ایک سال میں ملک کی ٹاپ 11 کمپنیوں میں سے 9 میں نئی ملازمت میں 27 فیصد کی کمی یہ بتاتی ہے کہ ملک سنگین روزگار کے بحران سے دوچار ہے۔ لیکن مغرور حکومت حل تلاش کرنے کے بجائے مسائل کے وجود سے ہی انکار کر رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’یہ خبر صرف برف کی چوٹی کا بالائی سرا ہے۔ جب بڑی کمپنیوں میں یہ حالات ہیں تو مودی حکومت کی ’ہم دو، ہمارے دو‘ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سب سے زیاہ مار جھیل رہے ایم ایس ایم ای سیکٹر کی صورتحال کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘‘دہلی کانگریس کے میگا جاب فیئر کا انعقاد، 6500 ہزار سے زائد نوجوانوں کو ملازمت کی پیشکشجے رام رمیش کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’تلخ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت کی غلط معاشی اور روزگار پالیسیوں نے پورے ملک کے جاب مارکیٹ کو گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ملک کی بدقسمتی ہے کہ مودی حکومت نوجوانوں کے روزگار کے بحران کا حل تلاش کرنے کے بجائے آج بھی صرف ہیڈلائن مینجمنٹ اور توجہ بھٹکانے کی سیاست میں مصروف ہے۔‘‘ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ کے آخر میں جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’ملک کا نوجوان سمجھدار ہے، اسے خوش کرنے کے لیے ریل نہیں، بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔‘‘