مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کانگریس کے گھنشیام سنگھ نے بی جے پی کے آشوتوش تیواری کو 6016 ووٹوں سے شکست دے دی۔ کانگریس نے دتیا میں یہ مسلسل دوسری جیت درج کی ہے۔ دتیا ضمنی انتخاب کے لیے 30 جولائی کو پولنگ ہوئی تھی اور آج ووٹوں کی گنتی 15 راؤنڈز میں مکمل ہوئی۔ پہلے اور پانچویں راؤنڈ میں بی جے پی امیدوار نے برتری حاصل کی تھی، اس کے علاوہ 13ویں راؤنڈ تک کانگریس کے امیدوار آگے رہے اور ان کی برتری مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ آخر میں آشوتوش تیواری نے برتری کے فرق کو کم ضرور کیا، لیکن انتخابی نتائج میں کانگریس نے شاندار جیت درج کر لی۔Datia, Madhya Pradesh: Newly elected Congress MLA Kunwar Ghanshyam Singh received his Certificate of Election after winning the Datia Assembly by-election. The certificate was presented by SDM Sonali Rajput in the presence of district election officials pic.twitter.com/KxUcCj5WUx— IANS (@ians_india) August 3, 2026واضح رہے کہ کانگریس نے 2023 میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں بھی دتیا سے جیت درج کی تھی اور یہاں سے راجندر بھارتی نے ریاست کے سابق وزیر داخلہ نروتم مشرا کو شکست دی تھی۔ ایک ایف ڈی کے معاملے میں بھارتی کو نااہل قرار دیا گیا اور عدالت نے انہیں 2 سال سے زیادہ کی سزا سنائی۔ اسی وجہ سے یہاں ضمنی انتخاب ہوا، بی جے پی اور کانگریس دونوں نے اپنا پورا زور لگایا لیکن جیت کانگریس کو ملی۔گھنشیام سنگھ دتیا اور آس پاس کے علاقوں میں طویل عرصے سے ایک سرگرم رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ کانگریس کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے، جو مسلسل عوام سے رابطے میں رہتے ہیں۔ گھنشیام سنگھ دتیا راج گھرانے کے سربراہ ہیں۔ وہ طویل عرصے سے کانگریس سے وابستہ ہیں۔ ایک زمینی رہنما کے طور پر پہچانے جانے والے گھنشیام سنگھ بہترین مقرر بھی ہیں۔ دتیا اور سیوڑھا اسمبلی حلقوں میں ان کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ برسوں کی محنت سے انہوں نے اپنی ایک الگ سیاسی زمین تیار کی ہے۔دتیا ضمنی انتخاب: ’بی جے پی حکومت سے ناراض عوام تبدیلی چاہتی ہے‘، کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ کا دعویٰگھنشیام سنگھ کے سیاسی سفر کی بات کریں تو یہ کافی اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا ہے۔ وہ دتیا سے 2 بار اور سیوڑھا سے ایک بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار 1993 میں کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور جیت درج کی تھی۔ اس کے بعد 1998 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، 2003 میں ایک بار پھر انہوں نے جیت درج کی۔ 2008 میں وہ بی جے پی کے امیدوار نروتم مشرا سے ہار گئے۔ 2013 میں انہیں بی جے پی کے پردیپ اگروال نے ہرایا۔ اس کے بعد 2018 میں وہ سیوڑھا اسمبلی حلقے سے الیکشن لڑے اور بی جے پی کے رادھے لال بگھیل کو شکست دے دی۔ 2023 میں سیوڑھا سے انہوں نے پھر الیکشن لڑا، لیکن وہ بی جے پی کے امیدوار پردیپ اگروال سے ہار گئے۔قابل ذکر ہے کہ دتیا ضمنی انتخاب میں کانگریس کے سامنے ایک مضبوط امیدوار منتخب کرنے کا چیلنج تھا۔ ایسے میں پارٹی نے ایک ایسے لیڈر کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا، جس کی علاقے میں پہلے سے مضبوط پہچان ہو۔ گھنشیام سنگھ اس کسوٹی پر کھرے اترے، سالوں سے تنظیم کے ساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے پارٹی قیادت نے ان پر اعتماد ظاہر کیا اور یہ اعتماد آخر کار جیت میں بدل گیا۔ اس سے پارٹی کو بڑی راحت ملی ہے اور حامیوں کا جوش بھی بلند ہے۔ دتیا ضمنی انتخاب کے فیصلے کو ایک بڑا سیاسی پیغام بھی مانا جا رہا ہے۔