ماہ جولائی برطانیہ کی تاریخ میں سب سے خشک ترین مہینہ قرار

Wait 5 sec.

لندن (04 اگست 2026): رواں سال کا جولائی برطانیہ کی تاریخ کا سب سے خشک ماہ قرار دیا گیا ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں جولائی میں بارش نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے، 1836 کے بعد سے اب تک کا یہ سب سے خشک مہینہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔میٹ آفس نے گزشتہ ماہ جولائی کے موسم کو غیر معمولی قرار دیا ہے، ریڈنگ یونیورسٹی کے ایٹموسفیرک آبزرویٹری کے ماہرین کے مطابق جولائی ’’غیر معمولی مہینہ‘‘ رہا۔ اس ماہ 359 گھنٹے دھوپ ریکارڈ کی گئی اور روزانہ اوسط درجہ حرارت 21.2 ڈگری سینٹی گریڈ (70.16 فارن ہائیٹ) رہا، جو جولائی 2006 میں قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔حکام کے مطابق سورج کی روشنی سے بجلی پیداوار کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا، جس میں 3.2 ٹیرا واٹ آور شمسی توانائی پیدا ہوئی، مئی میں قائم 12.4 فی صد شمسی توانائی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔برطانیہ میں بزرگوں، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت جاریسائنس دانوں کے مطابق خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی کا تعلق ابھی ثابت نہیں ہوا ہے، مستقبل میں سردیاں زیادہ مرطوب اور گرمیاں زیادہ گرم و خشک ہونے کا امکان ہے۔ مسلسل گرمی اور بارش کی کمی سے پانی کے ذخائر میں تاریخی کمی ہوئی ہے۔موسمیات اور ماحولیاتی سائنس کی شاہی پروفیسر ہنّا کلوک نے کہا ’’ہم طویل عرصے تک اس صورتِ حال کا سامنا کرنے والے ہیں اور یہ بتدریج بدتر سے بدتر ہوتی جائے گی۔ ہمیں ابھی سے اس کے مطابق خود کو ڈھالنا شروع کرنا ہوگا اور فوسل ایندھن جلانا بند کرنا ہوگا۔‘‘یونیورسٹی کے مطابق پورے جولائی میں صرف دو دن ایسے تھے جب درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ (77 فارن ہائیٹ) تک نہیں پہنچا، جب کہ آٹھ دن درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ (86 فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر گیا۔اس سال اب تک 16 دن ایسے گزر چکے ہیں جب درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا، جس کے باعث 1976 میں قائم ہونے والا سالانہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ اس وقت ایسے دنوں کی تعداد 14 ریکارڈ کی گئی تھی۔