کیا اب اتر پردیش کے مدارس کامل و فاضل کی ڈگری نہیں دے پائیں گے؟ یوگی حکومت کے فیصلہ پر سبھی کی نظر

Wait 5 sec.

اتر پردیش کے مدارس میں ملنے والی کامل اور فاضل کی ڈگریوں سے متعلق وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت جلد کوئی بڑا فیصلہ لے سکتی ہے۔ آج لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں کابینہ کی میٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ اس میٹنگ میں ان ڈگریوں کے حوالے سے ترمیمی تجویز پیش کی جائے گی، جس میں کامل اور فاضل کی ڈگریوں کو غیر معتبر قرار دیے جانے پر مہر لگ سکتی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آج لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ یوگی کی قیادت میں ان کی رہائش گاہ پر کابینہ کی میٹنگ ہوگی، جس میں 20 سے زیادہ اہم تجاویز کو منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ میں منگل کو ضمنی بجٹ پیش کیے جانے سے متعلق تجویز بھی رکھی جائے گی۔ انتہائی اہم فیصلہ مدارس سے ملنے والی کامل اور فاضل کی ڈگریوں سے متعلق لیے جانے کا امکان ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ کابینہ کی میٹنگ میں آج مدرسہ تعلیمی کونسل ایکٹ-2004 میں ترمیم کی تجویز کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ اس میں مدارس سے ملنے والی کامل اور فاضل کی ڈگریوں پر روک لگانے کے فیصلے پر مہر لگ سکتی ہے۔ اس تجویز کو منظوری ملنے کے بعد مدارس یہ دونوں ڈگریاں نہیں دے سکیں گے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کابینہ سے منظوری ملنے کے بعد یہ اہم تبدیلی جلد ہی نافذ کر دی جائے گی۔ یوگی حکومت کے اس قدم کو مدارس کی تعلیم کو قومی تعلیمی نظام کے مطابق کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مدارس میں فاضل کی ڈگری گریجویشن کی سطح کی سمجھی جاتی ہے، جبکہ کامل کی ڈگری ماسٹرز یعنی پوسٹ گریجویٹ سطح کی ڈگری کے مساوی ہوتی ہے۔ اس میں اسلامی مضامین کا نصاب اور علم ادیان کے موضوعات پڑھائے جاتے ہیں، جن میں قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کے مضامین شامل ہوتے ہیں۔