مودی-ٹرمپ ملاقات سے قبل کانگریس کا امریکی پالیسی اور تجارتی معاہدے پر اظہار تشویش

Wait 5 sec.

وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان 17 جون کو فرانس میں مجوزہ ملاقات سے قبل کانگریس نے مرکزی حکومت سے ہندوستان کے قومی مفادات سے جڑے معاملات کو مضبوطی سے اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ ہندوستان کو عمان کے ساحل کے قریب امریکی کارروائی میں 3 ہندوستانی ملاحوں کی موت، ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے اور امریکی انتظامیہ کے حالیہ رویے جیسے موضوعات پر اپنے تحفظات کو واضح طور پر سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’وزیر اعظم مودی جلد ہی اپنے ’خود ساختہ قریبی دوست‘ صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔‘‘प्रधानमंत्री मोदी जल्द ही अपने स्वयं-घोषित अच्छे मित्र राष्ट्रपति डोनाल्ड ट्रंप से मिलने वाले हैं।सभी भारतीय नागरिकों के मन में सबसे प्रमुख सवाल यह है कि क्या प्रधानमंत्री मोदी ये बातें उठाएंगे-(i) ओमान तट के पास एक जहाज पर अमेरिकी हमले में तीन भारतीय नाविकों की हत्या की भारत…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 14, 2026کانگریس کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ ’’ایسے میں ہندوستانی شہریوں کے ذہن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم مودی ملاقات کے دوران یہ باتیں اٹھائیں گے کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز پر امریکی حملے میں 3 ہندوستانی ملاحوں کے قتل کی ہندوستان سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اور 12 جون 2026 کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ بات چیت کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ذریعہ استعمال کی گئی دھمکی آمیز اور ناقابل قبول زبان کا معاملہ اٹھائیں گے۔‘‘کانگریس لیڈر نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر بھی جلد ہی ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں، تاکہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔‘‘ ساتھ ہی جے رام رمیش نے لکھا کہ ’’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ’باہمی اور باہمی طور پر فائدہ مند تجارت کے عبوری معاہدے کے فریم ورک‘ کا اعلان صدر ٹرمپ نے 3 فروری 2026 کی رات کو کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ وزیر اعظم مودی کی خصوصی درخواست پر کیا گیا تھا، اس وقت جب وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کے ذریعے چین کے حوالے سے ان کی بزدلی کے انکشاف کے دباؤ میں تھے۔‘‘جے رام رمیش کے مطابق یہ ’معاہدہ‘ ہندوستان کے لیے یکطرفہ نقصان کا سودا تھی، جس میں مودی حکومت نے بھاری یکطرفہ رعایتیں دیں، جو ہمارے کسانوں اور صنعتوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ملیشیا جیسے ممالک نے امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد، جس میں ان معاہدوں کی بنیاد بننے والے ٹرمپ ٹیرف کو منسوخ کر دیا گیا تھا، امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدوں کو کالعدم  قرار دے دیا ہے۔ مودی حکومت نہ صرف اس تجارتی معاہدہ کو چھوڑنے میں ناکام رہی ہے، جو ہندوستان کے کروڑوں کسانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتی ہے، بلکہ وہ خاموش اور بے بس بیٹھی رہی۔ جبکہ وزیر خارجہ روبیو نے اعلان کیا کہ مودی حکومت نے اگلے 5 سالوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کا سامان خریدنے کا عہد کیا ہے، یعنی امریکہ سے ہماری سالانہ درآمدات کو مؤثر طریقے سے دوگنا کرنا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’روبیو-جے شنکر بات چیت، صدر ٹرمپ کے ٹیرف نظام کو امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے اور اس تجارتی معاہدے کی واضح طور پر غیر منصفانہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کو کم از کم امریکی تجارتی نمائندے کا دورہ ملتوی کرنا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’کوئی بھی خود دار ملک دھونس جمانے والوں کے خلاف اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے محض فون کالز اور پریس بیانات سے بڑھ کر اقدامات کرے گا۔‘‘