یوگی کا ٹریڈ یونینوں پر برہم ہونا کیا ظاہر کرتا ہے؟...کرشن پرتاپ سنگھ

Wait 5 sec.

آپ کو یاد ہوگا کہ نوئیڈا اور قومی راجدھانی خطے کے مزدوروں نے کم از کم اجرت اور بعض دیگر مانگوں کو لے کر اپریل میں جو تحریک چلائی تھی، اس کے دباؤ میں بی جے پی کی اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو ان کے سامنے جھکنا پڑا تھا۔ البتہ بعد میں اس تحریک کے پیچھے ’’سوچی سمجھی سازش‘‘، اس میں ’بیرونی عناصر کی شمولیت‘ اور ’تشدد بھڑکانے‘ جیسے کئی الزامات لگا کر حکومت نے مزدوروں کے خلاف دباؤ اور ہراسانی کی کارروائیوں سے بھی گریز نہیں کیا۔وزیر اعلیٰ اس کے بعد سے ہی ٹریڈ یونینوں پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ یونینیں ہمیشہ ’ستیاناش‘ ہی کرتی ہیں۔ بیرونی مداخلت کے ذریعے بدامنی پھیلانے میں لگی رہتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خوف زدہ کرتی ہیں، جس سے سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ وہ اساتذہ کو ان کے پیشے کی ’پاکیزگی اور وقار‘ یاد دلا کر انہیں بھی ان یونینوں کا حصہ بننے سے منع کرنے لگتے ہیں۔ماہرین کے مطابق برطانیہ اور جرمنی وغیرہ میں، جہاں سب سے پہلے صنعتی انقلاب آیا اور کارخانے قائم ہوئے، ٹریڈ یونینوں کے وجود میں آنے اور فعال ہونے سے پہلے مزدوروں سے روزانہ 14 سے 15 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ جب صنعتی انقلاب ہندوستان پہنچا تو یہاں بھی مزدوروں کو تقریباً ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔1928 میں برطانوی ٹریڈ یونین کانگریس کا ایک وفد ہندوستان آیا تو اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ نو ضرب نو فٹ کی تاریک اور مٹی کی دیواروں والی کوٹھڑیوں میں کئی کئی مزدور رہتے ہیں۔ انہی کھڑکیوں سے محروم کمروں میں وہ کھانا بھی پکاتے ہیں۔1938 میں بین الاقوامی مزدور کانفرنس میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ہندوستان میں مزدوروں کے لیے بے روزگاری، بڑھاپے یا قبل از وقت موت کی صورت میں کسی قسم کی امداد یا تحفظ کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر بمبئی (موجودہ ممبئی) میں مزدوروں کی حالتِ زار کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے شرم کی بات ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ان حالات میں بہتری ٹریڈ یونینوں کے قیام اور ان کی جدوجہد کے بعد ہی ممکن ہوئی۔ یہ اسی وقت ممکن ہوا جب ان کے رہنماؤں نے مزدوروں کو ان کے جائز مطالبات کے لیے شانہ بشانہ جدوجہد کرنے کی ترغیب دی۔ افسوس کہ ان تمام تاریخی حقائق اور تحریکوں سے نظریں پھیر کر یوگی آدتیہ ناتھ موجودہ دور کے چند محدود واقعات کو بنیاد بنا کر یہ بات دانستہ طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین ہونے کا دعویٰ کرنے والا بھارتیہ مزدور سنگھ دراصل ان کے اپنے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) خاندان کا حصہ ہے۔ماہرین کے مطابق 23 جولائی 1955 کو آر ایس ایس کے ’مجاہدِ آزادی اور مفکر‘ دتتوپنت ٹھینگڑی نے بھارتیہ مزدور سنگھ کی بنیاد اس دعوے کے ساتھ رکھی تھی کہ یہ تنظیم مارکسزم یا سوشلزم جیسی کسی غیر ملکی فکر کے بجائے ’ہندوستانی ثقافت اور قوم پرستی کے اصولوں‘ پر کام کرے گی اور قوم، صنعت اور مزدوروں کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرے گی۔فطری طور پر اس کی شناخت آر ایس ایس کے نظریاتی حلیف کے طور پر ہے۔ چونکہ یوگی ٹریڈ یونینوں پر تنقید کرتے وقت نہ اسے دوسری یونینوں سے الگ کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عائد کیے جانے والے الزامات سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں، اس لیے حال ہی میں بھارتیہ مزدور سنگھ نے بھی ان کے بیانات پر گہری مایوسی اور اختلاف کا اظہار کیا۔اس کے اتر پردیش کے جنرل سکریٹری انل اپادھیائے نے ٹریڈ یونینوں کے کام کو باوقار، قابلِ احترام اور مقدس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی طرح مزدوروں یا سماج کے وقار کے خلاف نہیں ہے۔ تمام ٹریڈ یونینوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپتے ہوئے یہ کہنا درست نہیں کہ انہوں نے ستیاناش (بربادی) ہی کیا ہے۔تاہم اس سلسلے میں کئی اور ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں اپنے باہمی تضادات کے باوجود نہ انل اپادھیائے بیان کرنا چاہیں گے اور نہ ہی یوگی سننا پسند کریں گے۔ مثال کے طور پر انگریزی دور میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے 8 نومبر 1943 کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکنِ محنت (وزیرِ محنت) کی حیثیت سے انڈین ٹریڈ یونین (ترمیمی) بل پیش کرکے منظور کرایا اور فیکٹری مالکان کے لیے ٹریڈ یونینوں کو تسلیم کرنا قانونی طور پر لازمی بنوا دیا۔ ظاہر ہے کہ وہ مزدوروں کی فلاح کے لیے ٹریڈ یونینوں کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس اگر یوگی انہیں تباہی کا سبب قرار دیتے ہیں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا اس کے پیچھے بابا صاحب اور ان کے آئین کے تئیں بے اعتنائی کارفرما نہیں؟کاش یوگی اس بے اعتنائی سے بالاتر ہو کر یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ بابا صاحب سے پہلے 1920 میں ممبئی میں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (ایٹک) قائم ہوئی تو لالا لاجپت رائے اس کے صدر بنے تھے، وہی لالا لاجپت رائے جن کے یوگی خود بھی مداح ہیں۔ تب وہ جان پاتے کہ لالا لاجپت رائے اور ان کے بعد دیش بندھو چترنجن داس کی صدارت میں ایٹک نے مزدوروں کے لیے کام کے اوقات کے تعین سمیت کئی سماجی تحفظات حاصل کیے تھے، نہ کہ ان کا ستیاناش کیا تھا۔ اس دور میں ٹریڈ یونینوں نے صرف معاشی مطالبات کے لیے ہی جدوجہد نہیں کی بلکہ وہ قومی تحریک کی محافظ بھی بنیں۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو وہ قومی جدوجہد کا ہراول دستہ تھیں۔اس سے بھی پہلے 1908 میں، جب مزدور تحریک ابھی اپنی ابتدائی حالت میں تھی، برطانوی حکومت نے ممتاز قوم پرست رہنما بال گنگا دھر تلک کو چھ سال قید کی سزا سنائی تو اس کے خلاف بمبئی میں مزدوروں نے چھ دن کی عام ہڑتال کی تھی۔ ممکن ہے یوگی کو وہ ہڑتال بھی مثبت نہ لگتی ہو، کیونکہ جس طرح تحریکِ آزادی میں ان کی نظریاتی تنظیم کا کوئی کردار نہیں تھا، ویسے ہی اس ہڑتال میں بھی اس کی کوئی شمولیت نہیں تھی، اور شاید یہی احساسِ محرومی اس رویے کے پیچھے ہو۔ لیکن انہیں اس سوال کا جواب ضرور دینا چاہیے کہ اگر ٹریڈ یونینوں کا کردار مثبت نہ ہوتا تو مجاہدِ آزادی، ادیب اور سماجی مصلح لالا لاجپت رائے آخر ملک بھر میں انہیں منظم کرنے میں کیوں لگے رہتے؟تاریخ گواہ ہے کہ غلامی کے اس دور میں انہوں نے مزدوروں کے استحصال کو پہچانا اور انہیں اپنی یونینوں کے جھنڈے تلے متحد ہو کر بہتر اجرت، اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کی ترغیب دی۔ 1914 سے 1920 تک بیرونِ ملک قیام کے دوران وہ برطانوی لیبر پارٹی کے رابطے میں رہے اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی مزدوروں کی آواز اٹھائی۔ اسی طرح دیش بندھو چترنجن داس نہ صرف عظیم مجاہدِ آزادی، وکیل اور سیاست دان تھے بلکہ ہندوستانی مزدور تحریک کے بڑے رہنما اور خیر خواہ بھی تھے۔ وہ مزدوروں کے پسینے کو ملک کا خون قرار دیتے تھے اور مزدوروں کے استحصال کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے تھے۔آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے کلکتہ (موجودہ کولکاتا) میں مختلف ملوں اور کارخانوں کے مزدوروں کی ہڑتالوں کی حمایت کی اور انہیں برطانوی حکومت اور سرمایہ داروں کے مظالم سے بچانے کے لیے قانونی اور اخلاقی مدد فراہم کی۔1942 میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں محنت کے رکن (وزیرِ محنت) بنے تو ان کا بھی ٹریڈ یونینوں سے گہرا تعلق قائم ہوا۔ انہوں نے ملک کے مزدور قوانین، مزدوروں کے کام کے حالات اور سماجی تحفظ کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کیں۔ انہی کی کوششوں سے مزدوروں کے کام کے اوقات 10 سے 14 گھنٹے سے کم کر کے 8 گھنٹے مقرر کیے گئے۔مزدوروں، آجروں اور حکومت کے درمیان تنازعات کے حل اور مزدور پالیسیوں پر گفتگو کے لیے ہندوستانی لیبر کانفرنس کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا۔ اسی زمانے میں پہلی بار ’’برابر کام کے لیے برابر اجرت‘‘ کے اصول کو نافذ کیا گیا تاکہ مرد اور خاتون مزدوروں کے درمیان کوئی امتیاز نہ رہے۔ انہی دنوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دلانے میں مدد کے لیے روزگار دفاتر قائم کیے گئے اور خواتین ملازمین کے لیے زچگی فوائد کا قانون منظور کرایا گیا، جس کے تحت انہیں تنخواہ سمیت زچگی کی رخصت اور کام کی جگہ پر بچوں کے لیے کریچ (بچوں کی نگہداشت کے مرکز) کی سہولت فراہم کی گئی۔صرف یہی نہیں، کارخانوں کے مزدوروں کے لیے باقاعدہ تنخواہ سمیت سالانہ رخصت کا انتظام نافذ کیا گیا، ملازمین کے لیے پراویڈنٹ فنڈ کی بنیاد رکھی گئی اور بعد میں آنے والی ملازمین ریاستی بیمہ جیسی حفاظتی اسکیموں کی راہ ہموار کی گئی۔انہی دنوں بابا صاحب نے مختلف کارخانوں کا دورہ کیا اور مزدوروں کی جھونپڑیوں میں جا کر ان کی حالتِ زار کا مشاہدہ کیا۔ ستمبر 1943 میں دہلی میں آل انڈیا پرسنل یونین کے کارکنوں کے مطالعاتی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مزدور تنظیمیں بہت سے مفید مقاصد پورے کرتی ہیں، لیکن وہ اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں جب ان کے پیچھے مزدوروں کی قابلِ اعتماد حکومت ہو۔ اس لیے مزدوروں کو حکومت پر اپنا کنٹرول قائم کرنا اپنا ہدف بنانا چاہیے۔ایسے میں یوگی کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ٹریڈ یونینوں پر بلاوجہ برہم ہونے کے بجائے کبھی خود کو اور اپنے (سنگھ) خاندان کو ان حقائق کے آئینے میں دیکھیں اور خود احتسابی کریں۔