واشنگٹن : امریکا، ایران معاہدے پر دستخط جمعہ کے بجائے بدھ کو ہونے کا امکان ہے، فریقین آبنائے ہرمز کو جلد سے جلد یا جمعہ سے قبل کھولنے کے معاملے پر مکمل متفق ہیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا،ایران اور ثالث ممالک آج ہی الیکٹرانک دستخط سے معاہدے کی منظوری پرغور کررہے ہیں اور معاہدے کو تیز کرنے کے لیے اہم ترین مشاورت جاری ہے۔ایگزیوس کے مطابق الیکٹرانک دستخط کا مقصد جمعہ سے پہلے آبنائے ہرمز کو فوری کھولنا ہے، امریکا ایران میں معاہدے پر دستخط کی تقریب جمعہ کو باضابطہ طور پر ہوگی۔دستخط کی تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف شرکت کرینگے، ورچوئل معاہدے پر دستخط کے بعد امریکا تاریخی امن معاہدے کا متن جاری کر سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فریقین آبنائے ہرمز کو جلد سے جلد کھولنے کے معاملے پر مکمل متفق ہیں، وائٹ ہاؤس پر معاہدے کا متن جلد جاری کرنے کیلئے شدید سیاسی دباؤ ہے۔ایران کا مطالبہ تھا کہ باقاعدہ دستخط ہونے تک معاہدے کا متن شائع نہ کیا جائے، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے دباؤ کے تحت متن چھپانے کے تاثر کی مکمل تردید کردی گئی۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ رابطہ کرنے پر وائٹ ہاؤس نے الیکٹرانک دستخط کے سوال پر فی الحال تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ایران امریکا معاہدے کے ثالثوں پر زور دے رہے ہیں کہ متن آج ہی جاری کیا جائے، جے ڈی وینس