تنخواہ وقت پر نہ ملے تو ملازم کیا کرے؟ سعودی حکومت نے بتا دیا

Wait 5 sec.

ریاض : سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے ان غیر ملکی کارکنوں اور ملازمین کے لیے رہنمائی جاری کی ہے جنہیں مقررہ وقت پر تنخواہ یا اجرت ادا نہیں کی جاتی۔وزارت کے مطابق ایسے ملازمین جن کے آجر ان کی اجرت یا تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں، انہیں چند مخصوص ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، بشرطیکہ ان کی ملازمت کا معاہدہ قابلِ نفاذ دستاویز کی حیثیت اختیار کرچکا ہو۔وزارت نے وضاحت کی ہے کہ سب سے پہلے ملازم کو اس بات کی تصدیق کرنا ہوگی کہ اس کا معاہدہ قابلِ نفاذ ہے۔ اگر ملازمت کا معاہدہ اکتوبر 2025 کے بعد دستاویزی شکل میں رجسٹر یا اپ ڈیٹ کیا گیا ہے تو اسے قابلِ نفاذ دستاویز تصور کیا جائے گا۔سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق اس کے بعد کارکن کو "قیویٰ” پلیٹ فارم کے ذریعے یہ جانچنا ہوگا کہ اس کا رجسٹرڈ ملازمتی معاہدہ نفاذ کی قانونی حیثیت حاصل کر چکا ہے یا نہیں۔وزارت کے مطابق اگر تنخواہ کی مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد 30 دن تک آجر مکمل واجب الادا رقم ادا نہ کرے تو ملازم یا کارکن "ناجز” پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست نفاذِ حکم کی درخواست جمع کرا سکتا ہے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے تحت آنے والے معاملات میں کارکنوں کو لیبر کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے یا پہلے مصالحتی مرحلے سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے تنخواہوں کی وصولی کا عمل مزید تیز اور آسان بن سکے گا۔وزارت نے کارکنوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ملازمت کے معاہدوں کی قانونی حیثیت کی بروقت تصدیق کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے دستیاب سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔