واشنگٹن : امریکا میں اسٹیج ٹو ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کے علاج سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نئی دوا ’ٹزیلڈ‘ کے مزید استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے۔ٹزیلڈ پہلی اور واحد دوا ہے جسے امریکی ادارے ایف ڈی اے کی جانب سے اسٹیج ٹو ٹائپ ون ذیابیطس کی تشخیص والے مریضوں کے علاج کے لیے منظور کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ٹائپ ون ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ٹزیلڈ کے استعمال کی منظوری میں توسیع کرتے ہوئے اسے 8 سے 17 سال عمر کے ان بچوں کے لیے بھی منظور کرلیا ہے جن میں حال ہی میں بیماری کے تیسرے مرحلے (اسٹیج 3) کی تشخیص ہوئی ہو۔اس سے قبل ایف ڈی اے نے پہلی بار 2022 میں اس دوا کی منظوری دی تھی تاکہ 8 سال یا اس سے زائد عمر کے مریضوں میں ٹائپ ون ذیابیطس کو دوسرے مرحلے سے تیسرے مرحلے میں منتقل ہونے سے مؤخر کیا جاسکے۔رواں سال اپریل میں ریگولیٹر نے ایک سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں میں بھی بیماری کے تیسرے مرحلے تک پہنچنے کے عمل کو سست کرنے کے لیے اس دوا کے استعمال کی اجازت دی تھی۔حالیہ منظوری کے تحت اب یہ دوا ایسے بچوں اور نوعمروں کو دی جا سکے گی جن میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسٹیج تھری ٹائپ ون ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہو تاکہ ان کے جسم میں انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کی کارکردگی کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھا جا سکے۔ماہرین کے مطابق ٹائپ ون ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جس میں لبلبہ (پینکریاز) بہت کم یا بالکل انسولین پیدا نہیں کرتا، اسٹیج 3 کے مریضوں میں بار بار پیشاب آنا، شدید پیاس لگنا اور مسلسل تھکن جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، جن کے باعث عموماً انسولین تھراپی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ٹیزیلڈ مدافعتی نظام کے اس ردعمل کو ہدف بناتی ہے جو پینکریاز کے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے جسم کی قدرتی انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ایف ڈی اے کے مطابق اس منظوری کی بنیاد 328 بچوں اور نوعمروں پر کی جانے والی ایک تحقیق ہے، جن میں بیماری کی تشخیص گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران ہوئی تھی۔ تقریباً 18 ماہ بعد حاصل ہونے والے نتائج سے معلوم ہوا کہ دوا استعمال کرنے والے مریضوں میں انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کی کارکردگی میں کمی نسبتاً کم رہی، جبکہ پلیسبو حاصل کرنے والے مریضوں میں یہ کمی زیادہ دیکھی گئی۔