واشنگٹن (18 جون 2026): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کابینہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کرنے پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کر دیا۔امریکی نائب صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ لوگ معاہدے اور کچھ لوگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں، ان کو تنقید سے پہلے حقائق دیکھنے چاہیے۔یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران معاہدے میں پاکستان کا اہم کردار ہے، صدر ٹرمپجے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو پیغام ہے کہ تمہارے گھروں کی حفاظت امریکی ہتھیاروں سے ہوتی ہے، اسرائیل کی حفاظت امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہوتی ہے، اسرائیل جن ہتھیاروں سے حفاظت کرتا ہے وہ امریکا کے بنے ہوئے ہیں۔ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہےاپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے دو دنوں سے آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا، وہ معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے، اس کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔معاشی ریلیف کا انحصار ایران کے اپنے رویے پر ہےامریکی نائب صدر نے کہا کہ کچھ میڈیا کی جانب سے معاہدے کے شقوں کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، معاشی ریلیف کا انحصار ایران کے اپنے رویے پر ہے، ایران کے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھا جائے گا، اس کی کارکردگی دیکھتے ہوئے پابندیوں میں نرمی ہوتی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو کمزور کر کے ان کا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ایران ایسے ہتھیار یا میزائل نہیں بنائے گا جس سے دنیا کو خطرہ ہو’معاہدے کے مطابق 60 دنوں کا دورانیہ آج سے شروع ہوا ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ جنگ کے دوران تباہ کیا جا چکا ہے۔ معاہدے میں شامل ہے ایران ایسے ہتھیار یا میزائل نہیں بنائے گا جس سے دنیا کو خطرہ ہو۔ ایران کے پاس اب ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی دوبارہ کوشش نہ کرے۔ یہ بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ ایران خطے میں کالعدم تنظیموں کی مدد نہیں کرے گا۔ ایران کی معیشت بہت نیچے چلی گئی ہے ان کو پیسوں کی ضرورت ہے، اس کے رویے کو دیکھتے ہوئے ان کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔‘ایم او یو کے تحت حتمی مذاکرات کیلیے 60 دن آج سے شروع ہوگئےجے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ایران، عمان اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے متعلق میکنزم بنائیں گے، آبی گزرگاہ کے ٹول اور دیگر معاملات فائنل ڈیل میں طے ہوں گے۔امریکی نائب صدر نے بتایا کہ ایم او یو کے تحت حتمی مذاکرات کیلیے 60 دن آج سے شروع ہوگئے، معاہدے کے بعد کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ایران جب تک اپنا رویہ تبدیل نہیں کرے گا اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس کے رویے میں تبدیلی آئی تو یہ پورے خطے اور مشرق وسطیٰ کیلیے خوشخبری ہوگی۔