یو اے ای میں 15 سال کم عمر بچوں پر بڑی پابندی عائد

Wait 5 sec.

(18 جون 2026): متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کیلیے عمر کی حد مقرر کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کیلیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی۔ فیصلے کے تحت اس سے کم عمر بچوں کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے، استعمال کرنے یا چلانے پر پابندی ہوگی۔یو اے ای حکومت کے مطابق 15 اور 16 سال کی عمر کے بچوں کو سخت حفاظتی اقدامات کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جن میں عمر کے لحاظ سے موزوں مواد کے کنٹرولز، نامعلوم صارفین کے ساتھ بات چیت پر پابندی، اسکرین ٹائم مینجمنٹ ٹولز اور والدین کی نگرانی کے فیچرز شامل ہیں۔یہ بھی پڑھیں: یو اے ای حکومت کا غیر ملکیوں کے لیے بڑا ریلیفواضح رہے کہ یہ قوانین یو اے ای میں کام کرنے والے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوتے ہیں اور کمپنیوں کیلیے عمر کی تصدیق کے سخت اقدامات کو نافذ کرنا لازمی قرار دیتے ہیں، جن میں ڈیجیٹل شناختی چیک اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے بنائے گئے اکاؤنٹس کو بلاک کریں، صارفین کو عمر کی تصدیق کے نظام کو بائی پاس کرنے سے روکیں اور ٹارگٹڈ اشتہارات یا مائنڈ پروفائلنگ کیلیے بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔یو اے ای حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کے نامناسب مواد دیکھنے، غیر محفوظ آن لائن روابط، سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال اور ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیے جانے جیسے تحفظات کا تدارک کرنا ہے۔واضح رہے کہ آسٹریلیا اور یورپ کے دیگر ممالک سمیت کئی ممالک نے ذہنی صحت اور آن لائن حفاظت پر سوشل میڈیا کے اثرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے تحفظات کے پیش نظر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں سخت کرنے کیلیے اقدامات کیے ہیں۔