ویڈیو: راہل گاندھی کی طلبہ سے تجاویز اور دستخطی مہم میں شامل ہونے کی اپیل، نظامِ تعلیم پر شدید تنقید

Wait 5 sec.

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ’چھتروں کی گونج‘ مہم کے تحت ملک بھر کے طلبہ سے دستخطی مہم میں شامل ہونے اور اپنی تجاویز پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگی تعلیم، امتحانی بے ضابطگیاں اور باوقار روزگار کی کمی جیسے مسائل صرف سیاسی نہیں بلکہ قومی نوعیت کے مسائل ہیں، جن کے حل کے لیے نوجوانوں کی آواز کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔راہل گاندھی نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ اگر کسی طالب علم نے پرچہ افشا ہونے، امتحانات میں بے ضابطگیوں یا بڑھتی ہوئی فیسوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کیا ہے، اگر موجودہ نظام نے اس کے خواب توڑے ہیں یا اگر خاندان نے اس کی تعلیم کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کی ہے تو ’چھاتروں کی گونج‘ اسی کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک مہم نہیں بلکہ نوجوانوں کے مطالبات حکومت تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق سستی تعلیم، منصفانہ امتحانات اور باوقار روزگار ہر طالب علم کا حق ہے۔کانگریس رہنما نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں شامل ہو کر اپنے خیالات اور تجاویز پیش کریں اور دستخطی مہم کا حصہ بنیں تاکہ زیادہ سے زیادہ آوازیں ایک مشترکہ مطالبے میں تبدیل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر دستخط اس جدوجہد کو مزید طاقت دے گا۔ایک اور پیغام میں راہل گاندھی نے راجستھان کے شہر کوٹا میں منعقدہ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی جبکہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن دیکھا۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے پہلی بار ملک بھر میں کھل کر یہ بات سامنے آئی کہ تعلیم کے نام پر کس طرح بھاری مالی بوجھ طلبہ اور ان کے خاندانوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹا میں جلنے والی شمع کو اب پورے ملک میں تبدیلی کی مشعل بنانا ہے اور اس سفر میں نوجوانوں کا کردار اہم ہوگا۔کوٹا میں اپنے خطاب کے حوالے سے جاری ویڈیو پیغام میں راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کا موجودہ تعلیمی نظام طلبہ کی صلاحیتوں اور تخلیقی سوچ کو مرکز میں رکھ کر تشکیل نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ نظام نوجوانوں کو محدود خانوں میں تقسیم کر دیتا ہے اور انہیں صرف چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیتا ہے، جبکہ تعلیم کا مقصد تخیل اور صلاحیتوں کو آزاد کرنا ہونا چاہیے۔कोटा, आप कमाल थे।यकीन मानिए, कल हमने मिलकर इतिहास की शुरुआत की।हज़ारों छात्र मैदान में थे, लाखों लोगों ने ऑनलाइन देखा - और देश को पहली बार खुलकर पता चला कि शिक्षा के नाम पर कितनी बड़ी वसूली चल रही है।लेकिन यह तो सिर्फ़ शुरुआत है। कोटा में जो लौ जली है, उसे अब पूरे देश में… pic.twitter.com/UWdXQ9vXjD— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) June 18, 2026انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کا سب سے افسوسناک پہلو تعلیم پر آنے والی بھاری لاگت ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں خاندان اپنے بچوں کو طبی داخلہ امتحانات کی تیاری کرانے پر اتنی رقم خرچ کرتے ہیں جتنی مرکزی حکومت پورے تعلیمی بجٹ میں فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اسے باعث شرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کو تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنے خوابوں، خیالات اور اس تعلیمی نظام کے بارے میں اپنی توقعات سے آگاہ کریں، کیونکہ تعلیم، مستقبل اور اس سے جڑی جدوجہد نوجوانوں ہی کی ہے اور ان کی آواز کو سنا جانا چاہیے۔