واشنگٹن (15 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عین وقت پر امریکا ایران امن معاہدے میں ہونے والی تاخیر کی وجہ بتا دی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کا وزیر اعظم نیتن یاہو اگر بیروت پر حملہ نہ کرتا تو اب تک ایران سے معاہدے پر دستخط بھی ہو چکے ہوتے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو میں گالم گلوچ بھی کی، امریکی صدر اسرائیلی حملے پر نیتن یاہو سے شدید ناراض ہوئے اور کھری کھری سنا دیں۔ایکسیوس سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا نیتن یاہو کے پاس فیصلے کرنے کی کوئی عقل یا سمجھ بوجھ نہیں ہے، ان کو اس وقت بے وقوفانہ حملے کی کیا ضرورت تھی؟ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا نیتن یاہو کے پاس حالات سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔امریکا اسرائیل کے پاس شکست تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرزانھوں نے کہا بیروت پر اسرائیلی حملے سے ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کا عمل متاثر ہوا، ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو کی حرکت کی وجہ سے ایران سے معاہدے پر دستخط میں تاخیر پیدا ہو گئی۔ ٹرمپ نے کہا اسرائیلی وزیر اعظم نے بہت برا کیا، مجھے یقین نہیں آ رہا، ہم دستخط کرنے جا رہے تھے۔امریکی صدر کی گالم گلوچ کے بعد نیتن یاہو نے اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلا لیا، عرب میڈیا کے مطابق ایرانی میزائلوں کے ڈر سے نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس بنکرز میں ہوگا۔صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر لکھا ’’ہم معاہدے کے قریب ہیں، اسرائیل رکاوٹ نہ بنے، بیروت پر آج حملہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیے تھا، اسرائیل نے ایک معمولی حملے کا جواب دیا، ہم ایسے معاہدے کے بہت قریب ہیں، جو لبنان سمیت پورے خطے میں امن لائے گا۔‘‘ انھوں نے لکھا ’’یہ ایک پائیدار امن کی شروعات ہو سکتی ہے، اسے برباد نہ کریں۔‘‘واضح رہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی سالگرہ کے موقع پر (14 جون) ایران سے معاہدے پر دستخط چاہ رہے تھے۔