ریاض(15 جون 2026): نئے اسلامی سال 1448 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے آج سعودی عرب میں اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس میں ماہِ محرم الحرام کے چاند کی رویت کا فیصلہ کیا جائے گا۔اسلامی سالِ نو کے آغاز کے اس بابرکت موقع پر مسجد الحرام میں غلافِ کعبہ (کسوہ) کی تبدیلی کی روح پرور اور پروقار تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔ کعبہ مشرقہ کو نیا غلاف پہنائے جانے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ ماضی میں غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی یہ تاریخی تقریب ہر سال ماہِ ذوالحج میں نو (9) ذوالحج کو حج کے موقع پر (یومِ عرفہ کو) منعقد کی جاتی تھی۔ تاہم سعودی حکومت کے فیصلے کے مطابق اب یہ روح پرور تقریب ہر سال نئے اسلامی سال کے آغاز یعنی یکم محرم الحرام کو ہوا کرتی ہے۔نئے غلاف کی تیاری کئی ماہ قبل مکہ مکرمہ میں قائم کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوۂ کعبہ میں شروع کی جاتی ہے، جہاں ماہر کاریگر خالص قدرتی ریشم سے غلاف تیار کرتے ہیں اور اس پر سونے اور چاندی سے ملمع دھاگوں کے ذریعے قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کی نہایت نفیس کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔غلاف کی تبدیلی کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی مسجد الحرام میں انتظامات مزید تیز کر دیے جاتے ہیں۔ نئے کسوہ کے مختلف حصے مخصوص مقامات پر منتقل کیے جاتے ہیں جبکہ ماہرین قرآنی آیات، اسلامی نقوش اور کڑھائی کے تمام حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تاکہ تنصیب کے وقت ہر چیز مکمل طور پر تیار ہو۔غلاف کی تبدیلی سے ایک رات قبل خصوصی تکنیکی اور انجینئرنگ ٹیمیں متحرک ہو جاتی ہیں۔ سب سے پہلے موجودہ غلاف سے سونے سے مزین حصے اور کڑھائی شدہ اجزا احتیاط سے الگ کیے جاتے ہیں، جس کے بعد پرانا غلاف مرحلہ وار اتارا جاتا ہے۔اس کے بعد نیا غلاف خانۂ کعبہ کی چاروں دیواروں پر نہایت احتیاط اور طے شدہ ترتیب کے مطابق نصب کیا جاتا ہے تاکہ تمام حصوں میں مکمل ہم آہنگی اور درست مطابقت برقرار رہے۔ اسی رات خانۂ کعبہ کے گرد لگائی جانے والی کشیدہ کاری سے مزین پٹی (حزام) اور دروازے کا پردہ بھی نصب کیا جاتا ہے۔