لوگ مندر میں عقیدت کے ساتھ نذرانے اور عطیات پیش کرتے ہیں، لیکن جب اسی چندہ پیٹی سے چوری کی خبر سامنے آئے تو سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔ رام مندر میں عطیات کی چوری کا معاملہ ابھی سرخیوں میں ہے، اور اب کرناٹک کے میلوکوٹے واقع ’یوگ نرسمہا سوامی مندر‘ میں ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ عطیہ چوری کی بات کا پتہ چلتے ہی انتظامیہ نے بڑے پجاری سمیت 6 افراد کو معطل کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مندر کی سیکورٹی اور ذمہ داریوں کی انجام دہی میں لاپروائی سامنے آنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔’یوگ نرسمہا سوامی مندر‘ کرناٹک کے اہم مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ہر سال بڑی تعداد میں عقیدت مند آتے ہیں اور چندہ پیٹی میں نذرانے چڑھاتے ہیں۔ حال ہی میں مندر کی ہُنڈی (چندہ)، جو کہ پیٹی میں رکھی تھی، چوری ہو گئی۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔ جانچ کے دوران یہ دیکھا گیا کہ مندر کی سیکورٹی اور انتظامی ذمہ داریوں پر صحیح طور پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔ اسی تحقیقات کے بعد 6 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ معطل کیے گئے افراد میں مندر کے چیف پجاری نارائن بھٹ بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مندر کی انتظامیہ اور سیکورٹی سے وابستہ 5 دیگر افراد کو بھی معطل کیا گیا ہے۔ ان پانچوں کے نام ہیں شری دھر، ترووینکٹاچار، گارڈ گنگادھر، گارڈ بسوراجو اور کستوری سرینواسن۔اس پورے معاملے میں مانڈیا کے ڈپٹی کمشنر نے ڈیوٹی میں لاپروائی کو سنگین قرار دیا۔ اس کے بعد مندر کی ایگزیکٹیو آفیسر شیلا نے معطلی کا حکم جاری کیا۔ یعنی فی الحال یہ کارروائی چوری میں براہ راست ملوث ہونے کے الزام میں نہیں، بلکہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مبینہ کوتاہی اور غفلت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ظاہر ہے جب کسی بڑے اور معروف مندر میں چندہ پیٹی سے چوری کا واقعہ سامنے آتا ہے تو فطری طور پر سیکورٹی انتظامات پر سوال اٹھتے ہیں۔ آخر مندر کے احاطے کی نگرانی کیسے ہو رہی تھی؟ سیکورٹی اہلکاروں اور انتظامی عملے نے اپنی ذمہ داریاں کس طرح نبھائیں؟ تحقیقات انہی سوالات کے جواب تلاش کر رہی ہیں۔ فی الحال تحقیقات جاری ہیں۔ انتظامیہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ چوری کیسے ہوئی اور اس کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ اس وقت اتنا طے ہے کہ میلوکوٹے کے اس معروف مندر میں ہُنڈی چوری کے معاملہ نے مندر انتظامیہ کے طریقۂ کار کو سوالوں کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔